روہنگیا بحران: سوچی کو عالمی ’جانچ پڑتال‘ کا ڈر نہیں

آنگ سان سوچی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آنگ سان سوچی نے منگل کے روز قوم سے خطاب میں روہنگیا مسئلے پر اپنا موقف رکھا ہے

میانمار یعنی برما کی رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ اپنی حکومت کے روہنگیا بحران سے نمٹنے پر بین الاقوامی ’جانچ پڑتال‘ کا انھیں کوئی ڈر نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان رخائن صوبے سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔

٭ روہنگیا قتل عام: آنگ سان سوچی کی خاموشی پر تنقید

٭ روہنگیا بحران: آنگ سان سوچی کے لیے آخری موقع

منگل کو ملک کے شمالی رخائن صوبے میں جاری بحران پر اپنے پہلے قومی خطاب میں انھوں نے کہا کہ زیادہ تر مسلمانوں نے صوبے سے نقل مکانی نہیں کی ہے اور یہ کہ تشدد رک گيا ہے۔

نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو ملک میں جاری بحران پر ان کے رد عمل پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

رخائن صوبے سے روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اگست کے مہینے میں مبینہ طور پر پولیس چوکیوں پر مسلح حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حکومت ان حملوں کا الزام روہنگیا عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔

اس کے بعد حکومت کے جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کریک ڈاؤن شروع ہوا جسے اقوام متحدہ نے ’نسل کشی‘ سے تعبیر کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چار لاکھ سے زیادہ روہنگيا مسلمان تشدد زدہ صوبے رخائن سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچے ہیں

آنگ سان سوچی نے کہا کہ وہ یہ خطاب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک نہیں ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری یہ جان لے کہ ان کی حکومت حالات سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔

انھوں نے انسانی حقوق کی تمام پامالیوں کی مذمت کی اور کہا کہ جو کوئی بھی اس کا مرتکب ہے اس کو سزا دی جائے گی۔

آنگ سان سوچی کے خطاب کی خاص باتیں:

  • جو لوگ رخائن میں تشدد کے ذمہ دار ہیں ان کا قانون کے تحت محاکمہ کیا جائے گا۔
  • رخائن میں زیادہ تر مسلم گاؤں موجود ہیں۔ ہر شخص نے راہ فرار اختیار نہیں کیا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری کو یہاں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
  • رخائن میں امن و امان بحال کرنے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کیوں ہوا اور اس کے متعلق ہم نقل مکانی کرنے والوں سے گفتگو کے لیے تیار ہیں۔
  • رخائن میں جو کچھ ہوا اس کا میانمار کو شدید احساس ہے۔ ہم بنگلہ دیش جانے والے مسلمانوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
  • امن اور سلامتی ایسی چیزیں ہیں جس کے حصول کے لیے ہم نے 70 سال جدوجہد کی ہے۔ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم قانون کی حکمرانی اور امن کی بحالی کے لیے پر عزم ہیں۔
  • میانمار ایک پیچیدہ ملک ہے۔ لوگ امید کرتے ہیں کہ ہم سب سے کم ممکنہ وقت میں تمام چیلنجز سے نمٹ لیں گے۔ ہم نے بحران کو حل کرنے اور قانون کی حکمرانی کو بحال کرنے کے لیے ایک مرکزی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
  • ہم نے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو زیر التوا مسائل کو حل کرنے کے لیے مجوزہ کمیشن کی قیادت کے لیے مدعو کیا ہے۔
  • جو میانمار واپس آنا چاہتے ہیں ان کے لیے ہم پناہ گزین شناختی عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم مذہب اور نسل کے نام پر میانمار کو منقسم دیکھنا نہیں چاہتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں