دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ کوریا کو تباہ کر دے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ’سرکش ریاستوں‘ سے درپیش خطرات سے خبردار کیا ہے۔

منگل کو نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمالی کوریا نے اسے( امریکہ) یا اس کے اتحادیوں کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے تباہ کر دے گا۔

٭ شمالی کوریا کی تنبیہ: ’پابندیاں ہمیں روک نہیں سکتیں‘

٭ شمالی کوریا امریکہ کو ’شدید درد پہنچائے گا‘

٭ شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیاں بے سود ہیں: پوتن

٭ شمالی کوریا جنگ کے لیے بیتاب ہے: امریکہ

صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ 'راکٹ مین خودکش مشن پر ہے۔'

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حال ہی میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ'بدعنوان آمریت' کا ارادہ مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

انھوں نے ایرانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرنا ترک کرے۔

صدر ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے سمجھوتے پر دوبارہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ 'باعث شرمندگی' ہے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا:

  • امریکہ کا ’فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا یک طرفہ معاہدوں کا حصہ نہیں بنا جائے گا‘
  • بین الاقوامی سطح پر 'مضبوط خودمختار اقوام' کی اہمیت پر زور دیا
  • بعض ممالک 'جہنم میں جا رہے ہیں' لیکن اقوام متحدہ ان کی مدد کر سکتا ہے
  • وینزویلا کا بحران جس کی قیادت بائیں بازو کی حکومت کر رہی ہے وہ امریکہ کے لیے خطرناک ہے، 'ناقابل قبول' ہے اور 'امریکہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا'
  • سوشلزم کی بطور نظریہ نفی کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'اس سے صرف ذہنی تکلیف، تباہی اور ناکامی ہی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں