عالمی سیاست کا نیا سرکش جوہری معاہدے کو ختم نہیں کرے گا: حسن روحانی

روحانی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ یہ بہت افسوس کی بات ہو گی اگر 'عالمی سیاست میں آئے نئے سرکش' کی وجہ سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے حتم ہوتا ہے۔

انھوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہی۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں 'سرکش ریاستوں' سے درپیش خطرات سے خبردار کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے بقول 'سرکش ریاستوں' میں شمالی کوریا، ایران، وینزویلا اور شام شامل ہیں۔

امریکہ سعودی تعلقات کے 70 سال

’راکٹ مین‘ خودکش مشن پر ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

’جوہری معاہدے کو بچانا ایران کی اولین ترجیح ہے‘: صدر روحانی

ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے: ٹرمپ

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو 'شرمندگی' قرار دیا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے جواب میں صدر ٹرمپ کو 'عالمی سیاست میں نیا سرکش' قرار دیا۔

ایرانی صدر نے اس بات کی تردید کی کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی چھ عالمی طاقتوں میں سے کسی ایک کی جانب ہوتی ہے تو ایران اس 'بھرپور جواب دے گا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے صدر ٹرمپ کی 'جاہلانہ، مضحکہ خیز اور نفرت انگیز تقریر' کی مذمت کی اور کہا کہ یہ تقریر اقوام متحدہ میں کی جانی تقریر نہیں تھی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے بدھ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا بیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کی جانب اشارہ نہیں تھا۔

'امریکی صدر کا کہنے کا مطلب تھا کہ وہ اس معاہدے سے خوش نہیں ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے تقریر کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خیال میں امریکہ جوہری معاہدے سے نہیں نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ملک بھت اس معاہدے سے علیحدہ ہو گا وہ عالمی سطح پر تنہا رہ جائے گا اور شرمندگی کا سامنا کرنا ہو گا۔

'ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ اس معاہدے سے علیحدہ ہو گا۔ اگر امریکی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈال کر معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گی تو وہ بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ یا تو ایرانی جوہری معاہدہ جیسا اس وقت ہے ویسا رہے گا یا بالکل ختم ہو جائے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں