’پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں، کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار ہیں‘

شاہد خاقان عباسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان امریکی انٹیلیجنس کی معلومات کے مطابق نہیں ہے

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے پاس محاذِ جنگ پر استعمال ہونے والے جوہری ہتھیار نہیں بلکہ کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عباسی نے کہا کہ 'پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔‘

کیا وزیراعظم نے ٹیکٹیکل ہتھیاروں کی بحث ہی ختم کر دی ہے؟

پاکستانی میزائل بھارت کے لیے 'مخصوص'

'کولڈ سٹارٹ کا جواب چھوٹے مگر موثر جوہری ہتھیار'

جوہری ہتھیار بنانے کا عمل جاری رکھنے کا عزم

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار ہیں جو میدانِ جنگ میں استعمال کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ جوہری ہتھیار بھی اسی طریقے سے محفوظ کیے گئے ہیں جس کے تحت پاکستان کا باقی جوہری اسلحہ محفوظ بنایا گیا ہے۔

ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ایسا جوہری اسلحہ ہوتا ہے جو محاذِ جنگ پر دشمن فوج کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس میں زمین سے فضا یا فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جوہری مواد سے لیس گولہ بارود، بارودی سرنگیں اور جوہری وار ہیڈ والے تارپیڈوز وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے برعکس سٹریٹیجک جوہری اسلحے کو خاص منصوبہ بندی کے تحت ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو محاذ جنگ سے دور مگر سٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہوں۔ یہ اسلحہ عموماً بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا ٹیکیٹکل جوہری اسلحہ نہ رکھنے کا بیان امریکی انٹیلیجنس کی معلومات کے مطابق نہیں ہے۔

اخبار کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ کے سابق صدر اوباما کے دوسرے دورِ اقتدار میں امریکہ نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ مذاکرات میں انھیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی تھیی کہ پاکستان محاذِ جنگ پر استعمال ہونے والے جوہری ہتھیار نصب نہ کرے۔

دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے: جنرل باجوہ

’پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کی مشترکہ نگرانی پر رضامند‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیال رہے کہ ستمبر 2015 میں پاکستان کی نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نے پہلی مرتبہ کہا تھا کہ خطے میں روایتی ہتھیاروں کے عدم توازن کے باعث زیادہ موثر چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

پاکستان کی اس نئی پالیسی کو 'فل سپیکٹرم ڈیٹرنس کیپیبلیٹی' کا نام دیا گیا تھا۔

شدت پسندوں کے ’محفوظ‘ ٹھکانے

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج سے افغان سرحد کے قریب سے شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا 'ہم نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اب وہاں کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ کوئی بھی نہیں۔'

’خراب تعلقات کے ذمہ دار پاکستان اور افغانستان دونوں ہیں‘

’پاک افغان اختلافات کم کرانے کی کوشش کریں گے‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ان کوششوں کو نہیں سراہتا جن کے باعث پاکستانی فوج نے طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کیا۔

'پاکستان میں عام تاثر ہے کہ امریکہ پاکستان کی قربانیوں کو نہیں سراہتا اور آج ہم پر الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال پارٹنر ہیں اور اس سے کم نہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں