شام: غیر ملکی فوج کے فضائی حملے میں 84 شہری ہلاک ہوئے

Entrance to the Badia school in Mansoura that was struck on 20 March 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Ole Solvang/Human Rights Watch
Image caption منصورہ میں فضائی حملے سے تباہ ہونے والا سکول

شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں پر امریکی قیادت میں غیر ملکی فوج کے فضائی حملوں کے باعث کم سے کم 84 افراد مارے گئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے مارچ میں کیے گئے۔

ایک تحقیق سے پتہ چلا کے مارچ میں قہ کے علاقوں منصورہ اور طباق میں ایک سکول اور بازار پر ہونے والے ان حملوں میں مارے جانے والوں میں درجنوں بچے شامل ہیں۔

شام میں رقہ پر فضائی حملے، 20 عام شہری ہلاک

حلب میں بچوں کا ہسپتال فضائی حملے کا نشانہ بن گیا

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات پر شدت پسند عام شہریوں کے ساتھ موجود تھے۔

غیر ملکی فوجوں کے اتحاد کا خیال ہے کہ منصورہ میں کیے گئے فضائی حملے میں کوئی عام شہری نہیں مارا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ole Solvang/Human Rights Watch
Image caption طباق مارکیٹ میں زیادہ تر عام شہری خریداری کرتے تھے

ستمبر کے آغاز میں اتحاد کا کہنا تھا کہ اگست 2014 سے اب تک شام اور عراق میں کیے گئے اس کے فضائی حملوں میں نادانستہ طور پر 685 عام شہری مارے گئے۔

تاہم عام شہریوں کی کی ہلاکت کا حساب رکھنے والے ایک ادارے ایئر ویز کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کم از کم 5343 ہے۔

اسی بارے میں