رخائن میں 'ہندوؤں کی اجتماعی قبر' کی دریافت: میانمار کی فوج کا دعویٰ

برما

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

رخائن میں ہونے والے ہنگاموں میں میانمار کے ہندو بھی متاثر ہوئے ہیں

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ انھیں ملک کی رخائن ریاست میں 20 خواتین اور آٹھ مردوں اور بچوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں دو قبروں میں دفنایا گیا ہوا تھا۔

پیر کو میانمار کی حکومت نے تصویر کے ساتھ فیس بک پر پیغام جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ رخائن کے ایک گاؤں یباؤکیا میں ہندوؤں کی اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے۔

یہ پیغام گاؤں کے ایک نامعلوم رہائشی سے منسوب کیا گیا تھا جس کے مطابق شدت پسند تنظیم آراکان روہنگیا سیلویشن آرمی (ارسا) کے اراکین نے 25 اگست کو اس گاؤں کے سو سے زائد رہائشیوں کو گھیرے میں لے کر بیشتر کو قتل کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ رخائن میں آزادانہ صحافتی سرگرمیوں پر حکومت کی جانب سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پابندی ہے۔

لیکن دوسری جانب بی بی سی نے رخائن سے بنگلہ دیش بھاگنے والے ہندوؤں سے گفتگو کی جس میں انھوں نے بتایا کہ ارسا کے شدت پسندوں نے ان پر حملہ کیا تھا جس میں کئی لوگ ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کئی مکانات نذر آتش کر دیے گئے تھے۔

ارسا نے ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے اور ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب 'جھوٹ' ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK / INFORMATION COMMITTEE

،تصویر کا کیپشن

میانمار کی حکومت کی جانب سے فیس بک پر جاری کیا گیا پیغام

یاد رہے کہ 25 اگست سے رخائن ریاست میں شورش جاری ہے جب روہنگیا شدت پسندوں نے میانمار کی پولیس پر حملہ کیا تھا۔

اس حملے کے بعد حکومت نے فوج کو روہنگیا کے خلاف کاروائی کا حکم دیا جس کے بعد سے اب تک چار لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہنے الزام لگایا ہے کہ میانمار کی فوج نسل کشی میں ملوث ہے۔

رخائن میں ہونے والے ہنگاموں کی وجہ سے ملک کی آبادی کی اکثریت میں شمار ہونے والے ہندو اور بودھ جو رخائن میں رہائش پذیر ہیں، ان کو بھی بے گھر ہونا پڑا ہے۔

میانمار کی فوج خود پر لگائے گئے مظالم کے الزامات کی تردید کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف شدت پسند تنظیم آراکان روہنگیا سیلویشن آرمی (ارسا) کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔