’خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تو ان کی نسوانیت ختم ہو جائے گی‘

سعودی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب میں ایک تاریخی فیصلے کے تحت خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے اور ملک کے فرما روا شاہ سلمان نے خواتین پر عائد ڈرائیونگ کی پابندیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

سعودی عرب کی پریس ایجنسی کے مطابق ملک کی مختلف وزارتوں کو اس معاملے میں تیس دن کے اندر اندر ایک رپورٹ تیار کرنی ہے اور یہ تازہ حکم نامہ جون 2018 سے نافذالعمل ہوگا۔

سعودی عرب میں پہلے خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی بس ایک روایت کے طور پر ہی تھی، لیکن بعد میں جب اس پر بحث شروع ہوئی تو حکومت نے سنہ 1990 کے دوران اس پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی تھی اور اسی کے بعد ہی اس کے خلاف احتجاج بھی شروع ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دلانے کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے تھے، یہ تصویر 28 اکتوبر 2013 کی برلن کی ہے

پہلی بار 6 نومبر 1990 کو 47 خواتین نے اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا۔ بطور احتجاج ان خواتین نے دارالحکومت ریاض کی سڑکوں پر گاڑی چلائی جس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ملک کے سینیئر علما پر مشتمل ایک کونسل نے فتویٰ جاری کر کے خواتین کی ڈرائیونگ کو روکنے کی کوشش کی۔ اس فتوے میں خواتین کی ڈرائیونگ کو غیر مناسب اور منفی نتائج کا حامل قرار دیا گيا تھا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ اس سے مردوں اور عورتوں کے درمیان قربت اور اختلاط میں اضافہ ہوگا اور مخالف جنس کی طرف رغبت کا با‏عث بنے گا۔

اس کی مخالفت کرنے والی خواتین کو گرفتار اور ان کے پاسپورٹ کو بھی ضبط کیا جانے لگا تھا۔ ان تمام سختیوں کے باوجود خواتین نے اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا جاری رکھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/SAUDI WOMEN TO DRIVE

اس کے خلاف علامتی احتجاج نے 2011 تک پہنچتے پہنچتے ایک مہم کی شکل اختیار کر لی جس کا نام 'ویمن ٹو ڈرائیو موومنٹ' تھا۔

اس مہم کے تحت درجنوں خواتین نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز بنائیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیا اور پھر یہ مہم سوشل میڈیا پر پھیلتی گئي۔

اسی دوران 2011 میں حکومت کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گيا کہ اگر خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تو ان کی ورجینٹی ختم ہو جائے گی۔ یہ رپورٹ سعودی عرب کی مجلس شوریٰ نے جاری کیا تھا۔

لیکن خواتین کی جانب سے اس کی مخالفت تیز تر ہوتی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکومتیں چاہتی ہیں کہ خواتین مردوں کی نگرانی میں رہیں۔

مرد حضرات بھی خواتین کی اس آزادی کے خلاف معترض تھے۔ تین اکتوبر، 2011 کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 25 سالہ جوان نواف نے کہا تھا: 'اگر خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تو وہ اپنی مرضی کے ساتھ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔ یہ پابندی سعودی عرب کے لیے نہیں بلکہ اسلامی شناخت کی بق‍ا کے لیے ہے۔ آج وہ ڈرائیونگ کی اجازت مانگ رہی ہیں، کل وہ مختصر سے لباس پہننے کی اجازت طلب کریں گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AMNESTY.ORG
Image caption دسمبر 2014 میں سعودی عرب کی سماجی کارکن لجین الحتلول کو گاڑی چلانے کے جرم میں گرفتار کر لیا تھا

خواتین سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہونا شروع ہوگئیں اور فیس بک پر ڈرائیونگ کی حمایت کے لیے کئی صفحات بنائے گئے۔ اس مہم کو ٹویٹر اور یو ٹیوب پر پھیلانے کا آغاز ہوا۔

رفتہ رفتہ مردوں کی جانب سے بھی اس مہم کو حمایت ملنے لگی۔ خواتین کے بعض حلقوں نے اس پابندی کے لیے حکومت سے انونی جواز کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

خواتین کی یہ طویل جد و جہد رنگ دکھانے لگی اور حکومت نے بھی ان کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور بالآخر ان کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔

سعودی عرب کی پولیس نے دسمبر 2014 میں ملک کی ایک سماجی کارکن لجین الحتلول کو گاڑی چلانے کے جرم میں گرفتار کر لیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، انھیں سرحد پر ملک میں داخل ہونے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption ڈرائیونگ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر سعودی خواتین نے خوشی کا اظہار کیا ہے

اس کے رد عمل میں معروف سعودی صحافی ماس العمودی بھی ان کی حمایت میں سرحد پر ڈرائیو کرتی ہوئی پہنچیں اور پھر پولیس نے انھیں بھی گرفتار کر لیا۔

اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ذیلی عدالت نے حکم دیا تھا کہ ان خواتین کے خلاف ریاض کی مخصوص انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔

عالمی انسانی حقوق تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دنیا کے دیگر انسانی حقوق کے علمبردار اداروں نے اس بات پر سعودی عرب پر سخت تنقید کی تھی۔

اس تنقید کے بعد لجین کو 73 دن تک قید میں رہنے کے بعد آزاد کر دیا گیا تھا لیکن اس وقت تک خواتین کے حقوق کے مسائل ایک مہم کی شکل اختیار کر چکے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں