اقوامِ متحدہ جنگی جرائم کے ماہرین کو یمن بھیجنے پر متفق

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 2015 سے شروع ہونے والے اس خانہ جنگی میں اب تک 8530 افراد جن میں 60 فیصد شہری ہیں مارے جا چکے ہیں

اقوامِ متحدہ نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران فریقین کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کے لیے تفتیش کار بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک قرار داد منظور کی جس میں قابلِ احترام ماہرین کا ایک گروہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ مغربی طاقتوں اور سعودی عرب سمیت عرب ریاستوں کے ایک گروہ کے درمیان کیا جانے والا ایک سمجھوتہ ہے۔

سعودی عرب کی دھمکی، یمن انکوائری کی قرارداد تبدیل

’زندگی کے آخری دن بھیک مانگ کر گزار رہی ہوں'

یمن میں ہیضے کی وبا سے پانچ لاکھ افراد متاثر: اقوام متحدہ

سعودی قیادت میں عرب اتحاد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف یمنی حکومت کی کارروائی میں مدد کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق مارچ 2015 سے شروع ہونے والے اس خانہ جنگی میں اب تک 8530 افراد جن میں 60 فیصد شہری ہیں مارے جا چکے ہیں جبکہ 48800 لوگ فضائی حملوں اور لڑائی میں زخمی ہوئے۔

اس جنگ کے باعص دو کروڑ ستر لاکھ افراد کو انسانی امداد کا محتاج بنا دیا ہے اور یہاں پر خوراک کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی ایمرجنسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ سے اپریل سے اب تک سات لاکھ لوگ ہیضے کا شکار ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب نے گذشتہ برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ یمن کے اندر سے کی جانے والی تحقیقات زیادہ موزوں رہیں گی۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے حامیوں پر بمباری کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز سنہ 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے یمن کے شمالی حصے پر قبضہ کرنا شروع کیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے ادارے کے 47 ارکان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جنگ کی آزاد تحقیقات کرائیں گے جس میں ہزاروں افراد مارے گئے، یمنی معیشت تباہ ہو گئی اور لاکھوں افراد قحط کے دہانے پر پہنچ گئے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کا فوجی اتحاد دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہا ہے اور یمن کی اصل حکومت کی مدد کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنگ میں شریک تمام فریقین ہی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں

جنیوا میں طے پانے والے معاہدے کے تحت عالمی اور علاقائی ماہرین کا گروہ یمن میں تشدد اور استحصال سے متعلق تمام طرح کے الزامات کی تحقیقات کرے گا۔

یہ گروہ ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور استحصال کے حوالے سے حالات و واقعات سے متعلق حقائق اکٹھے کرے گا اور جہاں ممکن ہوا اس کے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے گا۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قدرے کمزور قرارداد سے شاید انسانی حقوق کے گروہ مایوس ہوں کیونکہ ان کا مطالبہ تھا کہ انکوائری کمشین بنایا جائے۔

ان کا الزام ہے کہ یمن میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم سرزد ہوئے ہیں اور ملک میں ہیضے کی وبا کا ذمہ دار یہی تنازع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہیضے کا مرض عام طور پر آلودہ پانی اور نامناسب سینیٹری حالات سے پھیلتا ہے

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے بھی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ انکوائری کمیشن کی منظوری دے کیونکہ انہیں یمن کی اندرونی تحقیقات کے غیر جانبدار ہونےپر شبہ ہے۔

اس سے پہلے جمعے کو انٹرنیشنل ریڈ کراس نے کہا تھا کہ لڑائی کے دوران فریقین کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور فضائی حملوں میں عام شہریوں کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

آئی سی آر سی نے کئی بار خبردار کیا ہے کہ یمن میں حالات تباہ کن ہیں اور خدشہ ہے کہ ہیضے سے متاثرہ افراد کی تعداد اس سال کے اختتام تک نو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی بارے میں