’امریکہ براہ راست شمالی کوریا سے رابطے میں اور بات چیت کے امکانات پر غور کر رہا ہے‘

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں جبکہ امریکہ بات چیت کے ممکنہ راستوں پر غور کر رہا ہے۔

بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ میں رابطے کے ذرائع ہیں جنھیں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ گفتگو کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

'بیان بازی جاری رہی تو زیادہ دیر باقی نہیں رہیں گے'

’بوکھلاہٹ کے شکار امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے‘

’راکٹ مین‘ خودکش مشن پر ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

واضح رہے کہ چین شمالی کوریا کا روایتی طور پر مرکزی حمایتی ملک ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر ان کے جوہری پروگرام کی وجہ سے لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کے باوجود اس کی خواہش ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا مذاکرات کے لیے راضی ہو جائیں۔

دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ چین کے پاس شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر قابو پانے کی کنجی ہے۔

یاد رہے کہ ریکس ٹیلرسن کے دورے کے بعد نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور صدارت میں چین کا پہلا دورہ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو راکٹ مین کا خطاب دیا

حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے مابین لفظوں کی جنگ میں شدت آئی ہے۔

کئی ہفتوں سے جاری اس تناؤ کے باوجود ماہرین کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین براہ راست تصادم کے خطرہ کو زیادہ نہیں ابھارا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ 'راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔'

دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ'خودکش مشن' پر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں