اویغور مسلمانوں اور چین کے درمیان جھگڑا کیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی حکومت کا کہنا ہے کہ سنکیانک میں سب ٹھیک ہے

چین کے سنکیانگ صوبے سے متعلق رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ وہاں اقلیت مسلم کمیونٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ قران اور نماز میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا کو جمع کرائیں۔

چینی حکومت نے کہا ہے کہ یہ محض افواہیں ہیں اور سنکیانگ میں سب کچھ ٹھیک ہے۔

اس سے قبل، اپریل کے آغاز میں، سنکیانگ میں حکومت نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم کے تحت اویغور مسلمانوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ان میں 'غیر معمولی لمبی داڑھی اور عوامی جگہوں پر نقاب پہننے سے منع کرنا شامل ہے۔

سنکیانک میں اس طرح کی پابندیاں نئی بات نہیں۔ 2014 کے رمضان میں مسلمانوں کے روزے رکھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

سوال یہ ہے کہ سنکیانگ میں رہنے والے مسلمان کون ہیں اور چین کی حکومت کے ساتھ انکا کیا جھگڑا ہے؟

چین کے مغربی صوبہ سنکیانگ میں انتظامیہ ’ہان‘ ذات کے چینی ہے اور مقامی اویغور برادری کے ساتھ ان کے تنازعے کی ایک طویل تاریخ ہے۔

اویغور دراصل مسلمان ہیں۔ ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے وہ خود کو وسطی ایشیائی ممالک کے قریب سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ثقافتی اعتبار سے اویغور خود کو وسطی ایشیا کے قریب سمجھتے ہیں

سِلک روٹ

صدیوں سے اس علاقے کی معیشت زراعت اور کاروبار پر مرکوز رہی ہے۔ یہاں کاشغر جیسے قصبے معروف سِلک روٹ کے مرکز ہیں۔

بیسوی صدی کے آغاز میں کچھ عرصے کے لیے اوغروں نے خود کو آزاد قرار دیدیا تھا، لیکن کمیونسٹ چین نے 1949 میں اس علاقے کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں نے آہستہ آہستہ کسانوں کی مذہبی، اقتصادی اور ثقافتی سرگرمیاں ختم کردی ہیں۔

بیجنگ پر یہ الزام ہے کہ اس نے 1990 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سنکیانگ میں ہونے والے مظاہروں، اور 2008 میں بیجنگ اولمپکس سے پہلے مقامی لوگوں کے خلاف کاروائیاں تیز کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنکیانگ کو مشہور سِلک روٹ کے حوالے سے شہرت حاصل ہے

ہان کمیونٹی کی آمد

گزشتہ ایک دہائی کے دوران زیادہ تر اہم اویغور رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

سنکیانگ میں چین نے بڑے پیمانے پر ہان کمیونٹی کو بسانا شروع کر دیا ہے، جس سے اویغور اقلیت میں آگئے ہیں۔

بیجنگ پر یہ بھی الزام ہے کہ اس علاقے میں اس کے اپنے مبینہ مظالم کو صحیح ٹھرانے کے لیے وہ اویغور علیحدگی پسندوں کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ اوغر علیحدگی پسند بم حملے، بدامنی اور توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

چین کہتا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے۔ تاہم چین اپنے اس دعوی کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر پایا۔

افغانستان پر امریکی حملے کے دوران امریکی فوج نے بیس سے زیادہ اویغور مسلمانوں کو پکڑا تھا جن کو الزام ثابت ہوئے بغیر سالوں تک گوانتانامو بے جیل میں رکھا گیا،۔بعد میں ان میں سے زیادہ تر کو ادھر ادھر بسا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی حکومت جِلا وطن اوغیر رہنما رابعہ قدیر پر مسئلے کو الجھانے کا الزآم لگاتی ہے

بڑا حملہ

جولائی 2009 میں، سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں نسلی فسادات میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے۔

خیال ہے کہ ایک فیکٹری میں ہان چینیوں کے ساتھ جھگڑے میں دو اوغروں کی موت کے بعد یہ تشدد پھیلا تھا۔

چینی انتظامیہ نے اس بدامنی کے لیے ملک سے باہر سنکیانگ علیحدگی پسندوں کو ذمہ دار ٹھرایا تھا اور جلا وطن رہنما رابعہ قدیر کو قصور مانا جاتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ رابعہ نے تشدد بھڑکایا تھا۔ رابعہ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

اوغر پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے پر امن مظاہرہ کرنے والے لوگوں پر اندھا دھن فائرنگ کی تھی جس کے سبب تشدد اور اموات ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کمیونسٹ چین نے 1949 میں اس علاقے کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا تھا

موجودہ صورتحال

سنکیانگ کو مشہور سِلک روٹ کی مرکزی چوکی ہونے کے ناطے شہرت حاصل ہے اور یہ چین کے سیاحوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

سنکیانگ میں صنعتی اور توانائی کے منصوبوں میں بہت بڑی سرکاری سرمایہ کاری ہوئی ہے اور چین ان کو ہی اپنی بڑی کامیابیوں کے طور پر گنوانے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکن بہت سےاوغروں کی شکایت کی ہے کہ ہان ان کی ملازمتوں پر قبضہ کررہے ہیں اور ان کی زرعی زمینوں پر اصلاحات کے نام پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔

حکومت مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کی سرگرمیوں سے پر کڑی نظر رکھتی ہے اور علاقے کی خبروں کی تصدیق کے لیے بہت کم آزاد ذرائع موجود ہیں۔