لاس ویگس: کنسرٹ حملے کا عالمی دہشت گردی سے تعلق ڈھونڈنے کی کوشش

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی شہر لاس ویگس کی پولیس نے اتوار کو کنسرٹ میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد اس کے محرکات تلاش کرنے کے لیے تفتیش کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے واقعے کے بعد دعوی کیا تھا کہ اس حملے کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے لیکن امریکی تفتیشی اہلکاروں کو اب تک عالمی دہشت گردی سے تعلق جوڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

لاس ویگس: شہریوں پر فائرنگ، حملہ آور ہلاک

64 سالہ گن مین سٹیفن پیڈک نے لاس ویگس کے مینڈالا بے ہوٹل کی 32ویں منزل سے کھلے میدان میں جاری موسیقی کی تقریب پر فائرنگ کی تھی جس سے اب تک 59 افراد ہلاک جبکہ 527 زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سٹیفن پیڈک نے خود کشی کر لی تھی۔

پولیس کو حملہ آور کے ہوٹل کے کمرے سے 16 بندوقیں اور اس کے گھر سے 18 مزید ہتھیار ملے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
امریکی شہر لاس ویگس میں فائرنگ سے کم از کم 50 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی

دوسری جانب امریکی صدر نے اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے ’شیطانی عمل‘ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاوس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس مشکل کی گھڑی میں امریکی شہری ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حملے کے بعد امدادی کارکنوں اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ اس موقع پر انھوں نے بدھ کو لاس ویگس کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاس ویگس کا مینڈالا بے ہوٹل جہاں 32ویں منزل کی کھڑکیاں واضح دکھائی دے رہی ہیں جہاں سے کنسرٹ کے شائقین پر فائرنگ کی گئی تھی

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں واقعے میں متاثر ہونے والے افراد سے اظہارِ ہمدردی کیا تھا۔

براہ راست ٹی وی فوٹیج میں لاس ویگس کے اس علاقے میں بڑی تعداد میں مسلح پولیس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے لوگوں سے اس علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔ اس فائرنگ میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقامی پولیس کے سربراہ جو لامبارڈو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ شہریوں پر حملے میں صرف ایک شخص ملوث ہے۔

پولیس سربراہ کے مطابق مرنے والوں میں ایسے پولیس افسران بھی شامل ہیں جو ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

پولیس نے علاقے میں اس طرح کے ایک اور واقعے کی اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے۔

ایک ہسپتال کے ترجمان نے سی این این کو بتایا ہے کہ کئی لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جنھیں گولیاں لگی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں گولیاں چلی ہیں

روٹ 19 ہاروسٹ فیسٹیول میں جائے واقعے کے بعض حصہ کو بند کر دیا گیا ہے اور وہاں مسلح پولیس موجود ہے۔

فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ہوا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں گولیاں چلائی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لوگوں کو جائے واقعہ سے افراتفری کے عالم میں بھاگتے دیکھا گيا ہے

واقعے کے بعد علاقے میں فضائی آمد ورفت کے متاثر ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جسے جہاں جگہ ملی وہاں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں