یورپی یونین کاتالان کے بحران پر خاموش؟

کاتالان ریفرنڈم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاتالان علحیدگی پسند بارسلونا کی سڑکوں پر جشن منا رہے ہیں۔

وہ غم و غصہ، وہ مذمتی بیانات کہاں ہیں، کاتالان میں پولیس کے ہاتھوں ووٹرز پر ہونے والے تشدد کے خلاف دکھ پر مبنی ٹویٹس کہاں ہیں؟

یورپی ممالک کے دارالحکومتوں میں کافی خاموشی ہے۔ بریگزیٹ کے دوران ردعمل ظاہر کرنے والے سربراہانِ مملکت اپنی زبان کیوں بند کیے بیٹھے ہیں۔

بیلجیئم کے وزیراعظم نے کہا کہ 'تشدد کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔' سلونیا کے وزیراعظم نے حالات پر اپنے خدشات ظاہر کیے لیکن صرف ان دنوں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا۔

کوئی بھی اس باضابطہ خاموشی اور دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کو یورپی ممالک کے مابین نفیس ترین سفارت کاری کے طور پر بیان کر سکتا ہے لیکن اس کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ کئی یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ کاتالان کو آزادی ملنے کے بعد کئی دوسری علیحدگی پسند تحریکوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ کئی یورپی ممالک میں آبادی مختلف نسلوں اور مختلف زبان بولنے والے نوجوان افراد پر مشتمل ہے۔

یورپی رہنما ہر گز نہیں چاہتے کہ اُن کے اپنے ملکوں کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔

دوسرا یہ کہ استقامت کا سوال ہے۔ کیسے یورپی یونین آزادی کی مخالفت کر سکتا ہے، مثال کے طور پر کرد اور کرائمیا کے عوام نے کیا فوری طور کاتالان کا خیر مقدم کیا؟ یورپی یونین کے لیے یہ کافی مشکل ہے کہ وہ خود مختاری کے لیے حقِ رائے دہی کی حمایت کریں جسے کسی بھی ملک کی آئینی عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

لیکن تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اصولی طور پر یورپی یونین علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف ہے۔ وہ ایسے خود مختار ریاستوں کو خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ برسلز کے حکام کے لیے ایک رکن کی دو حصوں میں تقسیم کافی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کیا آزاد کاتالونیہ یورپی یونین میں شامل ہو گا؟ اگر سپین اُس کی رکینت پر پابندی لگا دیتا ہے تو پھر کیا ہو گا؟ سپین کی معیشت پر کاتالونیہ کی آزادی کے کیا اثرات پڑیں گے کیونکہ ملک کی آمدن کا تقریباً 20 فیصد کاتالونیہ کے بجلی گھروں کی آمدن پر مشتمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سپین کی یکجہتی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کاتالونیہ کو پہلے ہی ملک کے آئین میں کافی خودمختاری حاصل ہے

برطانیہ کا اس پر ردعمل کیا ہو گا کیونکہ حزبِ مخالف کے سیاستدان حکومت سے کاتالونیہ کی آزادی پر ردعمل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ ریفرینڈم سپین کا اندرونی معاملہ ہے اور ملک کے آئین کا احترام کرنا چاہیے اور سپین برطانیہ کا دوست اور اتحادی ہے۔

یہ قطعی حیران کن نہیں ہے کیونکہ برطانیہ کی حکومت نے حال میں خود مختاری کے لیے ریفرینڈم کا سامنا کیا ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ ایسا کچھ بھی ہو جس سے سکاٹش نینشل پارٹی کی حوصلہ افزائی ہو اور جب تک بریگزیٹ کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں برطانیہ غیر ضروری طور پر اپنے یورپی اتحادی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔

اور ظاہری طور پر جو تضاد ہے کہ یہ تمام عالمی مسائل ہیں، اقتصادی بحران، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور تارکینِ وطن جیسے مسائل کو ماورائے اختیارات اقدام سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

کاتالان کے علیحدگی پسندوں کا خیال ہے کہ سپین سے علیحدگی کی صورت میں ہی اُن کے مفادات پورے ہو سکتے ہیں۔

میڈرڈ کی حکومت کاتالان کی آزادی کو آئین کے لیے خطرہ تصور کرتی ہے اور یورپی یونین جو عموماً سرحدیں ختم کرنے کے بارے میں زبانی کلامی بیانات دیتی ہے وہ اپنی رکن ریاست کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کے خلاف خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔

چار سو سال پہلے معاہدے ویسٹفیلا کے تحت یہ اصول بنایا گیا تھا کہ عالمی معاملات میں خودمختار ریاستوں کو بلاک بنانا چاہیے تاکہ اُن کی سرحد کے اندر موجود افراد کے مفادات کا خیال رکھا جا سکے لیکن چار سو دہائیوں کے بعد یہ ایک واحد اصول ہے جو کاتالونیہ اور میڈرڈ کے درمیان مشترک ہے اور عدم اتفاق صرف صرف جغرافیہ پر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں