100 ویمن: روایات تبدیل کرنے کے لیے آپ کے خیالات

100 Women Challenge logo

اس سال 100 ویمن چیلنج کے سلسلے میں آپ اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں کہ کس طرح عورتوں کی ترقی میں حائل روایتی بندھنوں کو توڑا جا سکتا ہے۔

رواں ہفتے ناسا کی انجینیئر اور 100 ویمن کی پچھلی فہرست میں شامل ایولن میرالس نے چند خیالات کو فیچر کے لیے منتخب کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'میں نے جن سات خواتین کو چنا ہے وہ مردوں کو افرادی قوت میں عدم مساوات کے بارے میں آگاہی دینے اور مضبوط خاتون کردار کی تلاش کے بارے میں بات کرتی ہیں۔'

ایولن میرالس نے بتایا کہ 'وہ کام کا لچکدار ماحول بھی چاہتی ہیں جو خواتین ملازمین کو با اختیار بنائے۔'

1: لڑکوں کو صنفی مساوات کے بارے میں سکھایا جانا چاہیے: اینا فلیپینز

ہمارے ملک میں صنفی تعصب اب بھی معمول ہے۔ خواتین پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ کرے، اور مرد صرف کام کرے، یہ مضحکہ خیر ہے۔

اب بھی دفاتر میں خواتین کے بارے میں لطیفے سنائے جاتے ہیں، اور مجھے لوگوں کو روکنا پڑتا ہے۔ یا پھر ان کا رخ کسی اور طرف موڑنا پڑتا ہے۔

یہ ایک روایت ہے جسے صرف کم عمری میں تعلیم کے ذریعے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ لڑکوں کو صنفی مساوات کے بارے میں سکھایا جانا چاہیے اور لڑکیوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ ماؤں یا گھریلو کام کاج سے کہیں بڑھ کر کام کر سکتی ہیں۔

دو اہم وجوہات جن کی بنا پر خواتین اپنی ملازمت چھوڑ دیتی ہیں وہ خاندان کی دیکھ بھال یا پھر جنسی ہراسانی ہیں۔ لیکن ہم اسے تبدیل کر رہے ہیں۔

خصوصاً اعلیٰ سطح پر ہم اپنے مردوں کو تصویر کے بڑے رخ سے روشناس کراتے ہیں۔ جب خواتین کامیابی حاصل کرتی ہیں تو زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

100 ویمن کیا ہے؟

بی بی سی 100 ویمن ہر سال پوری دنیا سے 100 بااثر اور متاثرکن خواتین کے نام شائع کرتا ہے۔ 2017 میں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ آج کی عورت کو درپیش چار بڑے مسائل سے کیسے نمٹا جائے جن میں روایات، خواتین کی ناخواندگی، عوامی مقامات پر ہراسانی اور کھیلوں میں صنفی تعصب شامل ہیں۔

آپ کی مدد سے وہ حقیقی زندگی میں ان مسائل کے حل کے لیے کام کریں گی اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کام میں اپنے خیالات کے ساتھ شامل ہوں۔ آپ ہمیں فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر بھی پر تلاش کر سکتے ہیں۔

2: صرف خواتین کو حاصل فوائد پر توجہ مرکوز رکھنا بند کریں: نیٹیلی، برطانیہ اور نیدرلینڈز

ہمیشہ کے لیے روایات کو بدلنے کے لیے ہمیں اس کو صرف خواتین کا معاملہ سمجھنا بند کرنا ہو گا، صرف خواتین کو حاصل فوائد پر توجہ دینی بند کرنی ہو گی اور اس بارے میں صرف خواتین کو ہی بات نہیں کرنی چاہیے۔

دفاتر حقیقی صنفی مساوات کے نفاذ سے ہر ایک کا فائدہ ہے۔ اس سے کاروبار مکمل تنوع کے ساتھ پھیلے گا اور لوگ اپنی خصوصیات پر توجہ دے سکیں اور انفرادی طور پر اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مدد مانگ سکیں گے۔

یہ کام کرنے کے لیے ہمیں اس گفتگو میں زیادہ سے زیادہ مردوں کی شرکت کی ضرورت ہے (جیسے کھیلوں کی دنیا سے اینڈی مرے نے کی ہے)۔ اس سے یہ ایسی گفتگو بن جائے گی جس میں تمام اصناف کے لوگ اس بارے میں بات کریں گے کہ یہ 2017 کے معیار پر کتنا ناقابلِ قبول ہے۔

ایک کاروبار کی مالکن کی حیثیت سے میں نے پچھلے دو سالوں کے دوران یہ سیکھا ہے کہ نظر انداز کیے جانے پر، کام کے میدان میں رکاوٹ ڈالے جانے یا سرپرستی جتائے جانے پر کیا رد عمل ہونا چاہیے اور ذاتی طور پر میں گفتگو کے دوران زیادہ مرد بات کرنے والوں کو خوش آمدید کہتی ہوں۔

3 اعلیٰ معیار قائم کریں: امینڈا، امریکہ

روایات کو بدلنے کے لیے ان چیزوں کا مجموعہ درکار ہے:

  • شفافیت
  • ملازمین کو کام کے لچکدار ماحول کی فراہمی تاکہ وہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں
  • اعلیٰ معیار قائم کریں اور سی ای او کو تبدیلی کا علم بردار بنائیں (آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں نے تنوع کو مد نظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے ہیں تاکہ اجتماعی کام کے بارے میں آگاہی پھیلائی جا سکے)
  • وسیع پیمانے پر مساوی تنخواہ کے لیے کاروباری کیس کو فروغ دیں جو کارکردگی کے پیمانوں سے منسلک ہو (زیادہ متحرک اور متنوع انتظامیہ کسی بھی کاروبار کے لیے اچھی سمجھی جاتی ہے اور حقیقی مساوات اور اہلیت سے نتائج بہتر آتے ہیں)

4 نوجوان خواتین کو مردوں کی رہنمائی کرنی چاہیے:کاٹرزائنا، سوئٹزرلینڈ

رہنمائی کے پروگرام کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں مردوں پر ان سے کم عمر کی خواتین اساتذہ کو سرپرست مقرر کیا جائے؟

ہم رہنمائی (مینٹورنگ) کے موجودہ رجحان کو خاتون (مینٹی) مرد (مینٹور) سے بدل کر خواتین کو رہنما یعنی مینٹور بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ سیکھ سکے کہ زیر سرپرستی کام کرنا کیسا لگتا ہے۔

Image caption ایولین میرالس ناسا میں ورچوئل ریالٹی ٹیم کی سربراہ ہیں۔ وہ بی بی سی کی پچھلی 100 ویمن فہرست میں شامل تھیں

5 ناشتے پر میٹنگز اور مراسم بنانے کی تقاریب نہیں ہونی چاہیے: دارا آئرلینڈ

میں دو بچوں کی والدہ ہوں اور اکیلی ہوں۔ ٹی وی کے لیے اشتہارات بنانے والے کامیاب ادارے کی ایم ڈی ہوں۔

ایک ماں اور والدین میں اکیلی ہونے کے ناطے جو میرے خاندان کے لیے سب سے زیادہ غیر دوستانہ عمل ہے وہ ناشتے پر کی جانے والی میٹنگز اور مراسم بڑھانے والی تقریبات ہیں۔

جب تک آپ کے پاس بچوں کی دیکھ بھال کا نظام نہ ہو (جو کہ اکثریت کے پاس نہیں ہوتا) تو یہ ناممکن ہے کہ آپ صبح چھ بجے بچے کی دیکھ بھال کرنے والا (بے بی سٹر) بلائیں اور خود میٹنگ کے لیے جائیں۔

معمول کے اوقات کار یا شام میں بچوں کی دیکھ بھال صبح صادق کے مقابلے میں آسان کام ہے۔

یہ غالباً چھوٹی سی بات لگ رہی ہو گی لیکن غور کریں کہ ان تقاریب میں کتنے مراسم بنائے جاتے ہوں گے۔ مراسم سے کریئر بنتا ہے اور روایات کو بدلنے میں مدد ملتی ہے۔

جب تک عام طور پر خاندان کے لیے غیر دوستانہ سمجھے جانے والے کام کے ماحول کو چیلنج نہیں کیا جاتا، خواتین کام کی جگہ کے لیے ایک نقصان ہی سمجھی جاتی رہیں گی۔

6 ملازمت کرنے والی ماؤں کے لیے لچکدار ماحول: کواسی، گھانا

میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ایک طریقے سے روایات کو بدلا جا سکتا ہے، اور وہ ہے ملازمت کرنے والی ماؤں کے لیے کام کے ماحول کو لچکدار رکھنا اور یہی گھانا کے دارالحکومت اکرا میں ایک آرکیٹیکچرل فرم کر رہی ہے۔|

یہ ادارہ نانا آکو برمیہ نے شروع کیا تھا جنھوں نے اپنی پچھلی ملازمت اس احساس کی وجہ سے چھوڑ دی تھی کہ ان کا ادارہ ماں بننے کے عمل کے دوران مددگار ثابت نہیں ہو گا۔ تو جب انھوں نے اپنا ادارہ شروع کیا تو اس بات کو یقینی بنایا کہ وہاں خواتین اس تکلیف کا شکار نہ ہوں۔

اس ادارے میں مائیں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لا سکتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے آیاؤں کو بھی خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو دنیا بھر میں نافذ کی جا سکتی ہے۔

7 معلوم کیا جانا چاہیے کہ طاقتور خواتین سے مرد خوف زدہ کیوں ہو جاتے ہیں: سنتھیا، امریکہ

میں اس بات میں دلچسپی رکھتی ہوں کہ ایک سروے کیا جائے جس سے اندر کی بات معلوم کی جائے اور شعور کے اندر جھانکا جائے کہ خواہشمند مرد دیکھ سکیں کہ وہ یا دیگر مرد طاقتور خواتین سے کیوں خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔

یہ میرا سب سے اچھا اندازہ ہے کیونکہ مردوں کو کئی بار عورتوں کے معاملے میں جوڑ توڑ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مرد عورتوں کو قابو کرتے ہیں یا ان پر جبر کرتے ہیں۔ یہ سروے روایات بدلنے میں خاصا مددگار ثابت ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں