’روہنگیا سے متعلق ویڈیو کی وجہ سے تاج واپس لیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ SHWE EAIN SI

برما کی ملکہ حسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست رخائن میں جاری تشدد پر ویڈیو پیغام کی وجہ سے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے تاہم انھیں اس کا کوئی ملال نہیں۔

شیو این سی نے گذشتہ ہفتے ایک آن لائن ویڈیو پوسٹ کی تھی اور روہنگیا شدت پسندوں پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔

19 سالہ شیو این سی سے مِس گرینڈ میانمار کا تاج اتوار کو واپس لے لیا گیا۔ منتظمین نے مذکورہ ویڈیو کا ذکر تو نہیں کیا لیکن یہ کہا کہ شیو نے معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کا رویہ ایک رول ماڈل جیسا نہیں تھا۔

لیکن شیو نے اس کے دو دن کے بعد اعزاز چھینے جانے کی وجہ اپنی ویڈیو کو قرار دیا ہے۔

ان کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہاں شیو این سی نے دہشت کی حکمرانی کے بارے میں ویڈیو بنائی جسے ارسا شدت پسندوں نے ریاست رخائن میں پھیلایا ہے‘۔

'وہ اس ملک کے شہری کے طور پر اپنا فرض سمجھتی ہیں کہ اپنی شہرت کو اپنی قوم کے لیے سچ بولنے کے لیے استعمال کریں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ان کی ویڈیو میں میانمار کی فوج کی جانب سے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ فوج جس پر نسلی تشدد کا الزام ہے کا کہنا ہے کہ وہ صرف ارسا شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

حالیہ تشدد کا آغاز 25 اگست سے ہوا تھا جب ارسا شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا تھا اور یہی فوج کی جانب سے کریک ڈاؤن کی وجہ بنا۔

اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ روہنگیا بنگلہ دیش نقل مکانی کر چکے ہیں۔

رخائن میں رہنے والی دیگر اقلیتیں جن میں ہندو بھی شامل ہیں اس تشدد سے متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی اور فوج کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر استحصال کے دعوؤں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی آبادی بھی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔

اسی بارے میں