کِم وال: سر قلم کرنے کی ویڈیوز ’ملزم کی ہارڈ ڈرائیو سے برآمد‘

کم وال تصویر کے کاپی رائٹ TOM WALL
Image caption کم وال ایوارڈ یافتہ صحافی تھیں

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے موجد کی مبینہ ہارڈ ڈرائیو سے اس خاتون صحافی کا سر قلم کیے جانے کی ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں جن کے قتل کا ان پر الزام ہے۔

پیٹر میڈسن پر الزام ہے کہ انھوں نے 30 سالہ کم وال کو اس وقت قتل کیا جب وہ 10 اگست کو ان کی آبدوز میں سوار ہوئی تھیں۔

ان کی سر بریدہ لاش 11 دن بعد کوپن ہیگن کے قریب پانی سے برآمد ہوئی تھی۔

* ’اپنی بیٹی کو صحافی نہیں بننے دوں گی‘

* صحافی کو فحش پیغامات بھیجنے پر ملک بدری

میڈسن اس قتل کے الزام سے انکار کرتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہارڈ ڈرائیو ان کی نہیں ہے اور جس تجربہ گاہ میں وہ کام کرتے تھے وہاں ہر شخص کو اس تک رسائی حاصل تھی۔

میڈسن جو خود سے سیکھ کر انجینیئر بنے ہیں کہتے ہیں کہ کِم وال کی موت آبدوز کا 70 کلو وزنی ڈھکن لگنے سے ہوئی تھی۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والی ایوارڈ یافتہ فری لانس خاتون صحافی میڈسن اور ان کی UC3 نوٹلس آبدوز پر ایک کہانی پر کام کر رہی تھیں۔

46 سالہ ملزم کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کے بعد لاش کو سمندر برد کرنے کی کوشش کی اور وہ اپنی آبدوز کو ڈوبانے کے بعد خودکشی کرنا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیٹر میڈسن (دائیں جانب) اس خبر کا موضوع تھے جس پر کم وال کام کر رہی تھیں

البتہ، مقدمے کے استغاثہ جیکب بش جیسپن کا کہنا ہے کہ پانچ ستمبر کو آخری بار ملزم عدالت میں پیش ہوئے تھے، اس وقت سے اب تک ان کا شک مزید مضبوط ہوا ہے کہ میڈسن نے ہی کم وال کو قتل کیا ہے۔

بش جیسپن کا کہنا ہے کہ تصاویر جن کے بارے میں 'خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اصلی ہیں' اس ہارڈ ڈرائیو سے ملی ہیں جو مبینہ طور پر میڈسن کی ہیں اور ان مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون پر تشدد کیا جا رہا ہے، سر قلم کر کے انھیں جلایا جا رہا ہے۔

پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ کِم وال جسم کے بعض حصوں پر چاقو کے زخم تھے جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کی موت سے قبل یا موت کے فوراً بعد لگائے گئے تھے۔

تاہم موت کا صحیح سبب ابھی معلوم کیا جانا ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ تفتیش کی جارہی ہے لہذا میڈسن کو مذید چار ماہ کے لیے زیر حراست رکھا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں