صدر ٹرمپ کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات،’یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلیٰ امریکی عسکری قیادت سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ یہ ’طوفان سے پہلے کی خاموشی کا ہے۔‘

انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا اشارہ کس طوفان کی طرف ہے۔ عسکری قیادت سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کی ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

٭ امریکہ ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا: ایران

٭ ’ایران نے میزائل تجربہ نہیں کیا‘، ٹرمپ کا جھوٹی خبر پر ٹویٹ

٭ ’ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا‘

٭ جہاں بھی ضرورت ہوئی ہم اسلحہ برآمد کریں گے: ایران

دوسری جانب وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے صدارتی تصدیق نہیں کریں گے جس کے بعد ممکن ہے کہ امریکی کانگریس ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر پابندیاں عائد کر دے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ واضح طور پر کانگریس کو پابندیاں لگانے کی تجویز بھی پیش نہیں کریں گے۔

وائٹ ہاؤس میں امریکی عسکری قیادت سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے اس جوہری معاہدے کی روح کی پاسداری نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے جوہری عزائم اور مشرقِ وسطیٰ میں جارحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں ایران اور دنیا کی چھ عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیاں لگائی گئی تھیں اور بدلے میں عالمی برادری نے ایران کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں میں کمی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ ایران کے میزائل تجربات کی وجہ سے اس پر پابندیاں عائد چکا ہے

تاہم امریکی میں صدر کو ہر سال اس بات کی توثتق کرنا ہوتی ہے کہ کیا ایران نے اس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر پورا اترا ہے یا نہیں جبکہ صدارتی تصدیق کے بغیر کانگریس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایران پر پابندیاں عائد کر دے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا اور اس پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ ایسا کیسے ہو گا۔

توقع ہے کہ 12 اکتوبر کو صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی کا اعلان بھی کرنا ہے۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے حال ہی میں اس معاہدے کا دفاع کیا ہے جبکہ روس اور چین بھی اس کے حامی ہیں۔

چند روز قبل ہی ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکہ اس ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا جس کے تحت ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

تاہم جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ انھیں امید ہے کہ یورپ اس معاہدے کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کرے گا۔

دو برطانوی اخباروں کو انٹرویو دیتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ اگر معاہدہ ختم ہو گیا تو ایران یورینیئم کی افزدوگی، سینٹری فیوجز کی تعداد اور پلوٹونیئم کی تیاری پر عائد پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا۔

تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایٹمی توانائی کو صرف پرامن مقاصد کے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 'اس معاہدے کے تحت ایران کو اجازت ہے کہ وہ تحقیق جاری رکھے۔ اس لیے ہم نے اپنی ٹیکنالوجی بہتری بنائی ہے۔ اگر ہم معاہدے کو ترک کرتے ہیں تو ہمیں بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں