100 خواتین: ’مستقبل کی لڑکیوں کے لیے ماضی کا سبق کیوں؟‘

تنزانیہ تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption تنزانیہ کی ایک نصابی کتاب میں طاقتور لڑکوں اور خوبصورت لڑکیوں کی عکاسی

تنزانیہ میں نصابی کتب میں لڑکوں کو طاقتور اور کھیلوں کے شوقین جبکہ لڑکیوں کو ان کی عمدہ لباس پر فخر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ہیٹی میں پرائمری سکول میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ مائیں 'بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور کھانا پکاتی ہیں' جبکہ والد 'دفتر میں کام کرتے ہیں۔‘

ایک پاکستانی کارٹون کتاب ہے جس میں تمام سیاست دان، منتظم اور بااختیار افراد تمام مرد ہیں۔

ترکی میں ایک کارٹون میں لڑکا ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا ہے جبکہ لڑکی سفید گاؤن میں خود کو ایک دلہن تصور کرتی ہے۔

یہ ایک طویل فہرست ہے اور اس کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption مائیں 'بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور کھانا پکاتی ہیں' جبکہ والد 'دفتر میں کام کرتے ہیں‘

پرائمری سکول کی سطح پر پڑھائی جانے والی کتابوں میں صنفی امتیاز غالب ہے اور متعدد ماہرین کے مطابق تمام براعظموں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔

ماہرِ سماجیات رائے لیسر بلومبرگ کہتی ہیں کہ 'یہ ایک چھپا ہوا مسئلہ ہے۔ مردوں اور خواتین کو کیا کردار ادا کرنا انھیں بظاہر صنف کے حساب سے تقسیم کیا گیا ہے۔'

یونیورسٹی آف ورجینیا کی پروفیسر بلومبرگ ایک دیہائی سے زائد عرصے سے دنیا بھر کی نصابی کتب کا مطالعہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دیکھا ہے کہ خواتین کے مخصوص کرداروں کی عکاسی کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption مرد دولت کماتے ہیں اور خواتین بچوں کا خیال رکھتی ہیں: ایک عموعی خیال کی عکاسی

وہ کہتی ہیں کہ 'جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بچے سکول جانے سے محروم ہیں ایسی صورت میں تعلیم میں صنفی امتیاز کا مسئلہ کبھی ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ '

اگرچہ سنہ 2000 سے سکول میں بچوں کے داخلے کی شرح میں ڈرامائی اضافی ہوا ہے، یونیسکو کا اندازہ ہے کہ چھ کروڑ سے زائد بچے اب بھی کبھی سکول نہیں گئے اور ان میں 54 فیصد لڑکیاں ہیں۔

پروفیسر بلومبرگ کہتی ہیں کہ 'یہ کتابیں صنفی امتیاز پھیلاتی ہیں اور ہم مستقبل کے بچوں کو ماضی کی کتابیں نہیں پڑھا سکتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption تیونس کی ایک نصاب کتاب میں خواتین کو گھریلو کام کاج کرتے دکھایا گیا ہے

نظروں سے اوجھل یا دقیانوسی

گذشتہ سال اقوام متحدہ کے ادارے برائے تعلیم یونیسکو نے ایک واضح تنبیہ جاری کی تھی۔ یونیسکو کا کہنا تھا کہ نصابی کتب میں صنفی امتیاز اتنا واضح ہے کہ اس سے لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور انھیں اپنا کیریئر اور زندگی کے تجربات میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق یہ صنفی برابری کی راہ میں ایک 'پوشیدہ رکاوٹ' ہے۔

یونیورسٹی آف البانی کے پروفیسر اور یونیسکو کے گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کے سابق ڈائریکٹر آرون بیناووٹ کہتے ہیں کہ چاہے یہ تحریر ہو، کرداروں کے نام، عنوانات یا کوئی بھی طریقہ کار 'سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصابی کتب اور نصاب میں خواتین کو بہت زیادہ حد تک نمائندگی نہیں دی جاتی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption تیونس کی ایک نصابی کتاب میں شامل خاتون کا عکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تین تہی مسئلہ ہے۔

صنفی امتیاز پر مشتمل زبان کے استعمال کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ تمام انسانیت کے لیے ہمیشہ مذکر الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پروفیسر بلومبرگ کہتی ہیں کہ خواتین اکثر تحریر سے غائب ہوتی ہیں ان کے تاریخ میں کردار اور روزمرہ کی زندگی پر مرد کردار حاوی ہوتے ہیں۔ 'ایک نصابی کتاب سائنسدانوں کے بارے میں تھی مجھے خاص طور پر یاد ہے، اس میں صرف ایک خاتون میری کیوری تھیں۔'

'لیکن کیا وہ ویڈیم دریافت کر رہی تھیں؟ نہیں، وہ اپنے شوہر کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھیں جو کسی اور سے بات کر رہے تھے، ایک ایسا مرد جو نفیس اور ممتاز دکھائی دے رہا تھا۔'

تیسرا یہ کہ روایتی دقیانوسی خیالات کہ کون سے کام مرد نے کرنے ہیں اور کون سے خواتین نے، گھر کے اندر اور گھر کے باہر۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption تمام پیشے مردوں سے منسلک ہیں، ایک اطالوی نصابی کتاب کا عکس

ایک اطالوی نصابی کتاب اس کی ایک واضح مثال ہے جس میں مختلف پیشوں کے ناموں کے بارے میں بتایا گیا ہے، دس مختلف پیشے مردوں کے لیے ہیں جن میں فائرمین سے لے کر ڈینٹسٹ شامل ہیں لیکن خواتین کے لیے کوئی بھی نہیں ہے۔

جبکہ خواتین کو عموما گھریلو کام میں مصروف بتایا جاتا ہے جیسا کہ کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور بچوں اور بزرگوں کا خیال رکھنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواتین کو عموما گھریلو کام کاج میں مصروف دکھایا جاتا ہے جیسا کہ کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور بچوں اور بزرگوں کا خیال رکھنا

'اگر خلائی مخلوق ہم سے ملنے آئے۔۔۔'

اب مسئلہ کسی حد تک نئی نوعیت کا ہے۔ 1980 کی دہائی کی نصابی کتب میں خاص توجہ دی جارہی ہے خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کے حقوق کے تحاریک کے بعد تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

2011 میں امریکہ میں اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تحقیق کی گئی تھی جس میں 20 ویں صدی میں شائع ہونے والی 5600 کتابوں کا جائزہ لیا گیا، اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ عنوانات میں تقریبا مرد خواتین کے مقابلے میں دگنے ہیں اور مرکزی کردار کے طور پر بھی وہ خواتین کے مقابلے میں دگنے ہیں۔

جب سے اس مسئلے کی نشاندہی ہوئی ہے یہ تقسیم کم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کی رفتار 'انتہائی سست' ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption سنہ 1962 میں امریکی سکولوں میں پڑھائی جانے والی ایک کتاب کا عکس

کچھ ایسی نصابی کتب جو کافی عرصہ پہلے شائع ہوئیں اور ان کی سخت جانچ پڑتال کی گئی اب بھی کئی کم آمدن والے ممالک میں زیراستعمال ہیں اور ان سکولوں کے پاس انھیں تبدیل کرنے کا بجٹ نہیں ہے۔

پروفیسر بلومبرگ کے مطابق 'صورتحال ہر سال خراب ہوتی جارہی ہے، کیونکہ دنیا ترقی کر رہی ہے، خواتین نئے پیشے اختیار کر رہی ہیں اور گھریلو ذمہ داریاں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اور کتابیں اس رفتار سے تبدیل نہیں ہو رہیں اور یہ فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔'

'اگر خلائی مخلوق یہاں آئے تو انھیں ہمارے سکول کی نصابی کتب پڑھ کر سمجھ نہیں پائے گی کہ خواتین دراصل کیا کرتی ہیں، پیشہ ورانہ طور پر اور ذاتی طور پر۔'

عالمی تشویش

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تقریباً ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے اعداد و شمارے بکھرے ہوئے ہیں لیکن ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا میں تیسری جماعت کی تاریخ کی کتاب میں خواتین کے لیے کوئی پیشہ بیان نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption قزاقستان (بائیں) اور ترکی (دائیں) کی نصابی کتب میں امتیازی برتاؤ کی مثالیں

کینیا میں انگریزی زبان کی کتابوں میں مردوں کو 'دلچسپ خیالات' کا مالک دکھایا گیا ہے جبکہ خواتین اور لڑکیاں کھانا پکاتی ہیں اور گڑیا کے بال سنوارتی ہیں۔

ایران کی وزارت تعلیم کی شائع کردہ کتابوں میں 80 فیصد مرکزی کردار مرد ہیں۔ انڈیا میں چھ فیصد خواتین کے کردار اور جارجیا میں سات فیصد کردار خواتین پر مشتمل ہیں۔

سنہ 2007 میں ہونے والے ایک تحقیق کے مطابق کیمرون، آئیوری کوسٹ، ٹوگو اور تیونس میں ریاضی کی کتب میں خواتین کے کردار مردوں کے مقابلے میں 30 فیصد کم ہیں۔ برطانیہ اور چین میں ہونے والے سروے کے مطابق بھی سائنس کے کتب میں 87 فیصد کردار مرد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کے مطابق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کتابیں ایک ایسی سوچ پیدا کرتی ہیں کہ ایک طالب علم کے نزدیک معاشرے میں عموعی رویہ کیا ہے

سنہ 2009 میں آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق نصابی کتب میں 57 فیصد کردار مرد ہیں جبکہ ملک میں خواتین کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے۔

پروفیسر بلومبرگ کے مطابق 'چین کی ایک کتاب میں ایک انتہائی نوعیت کا معاملہ ہے۔ 1949 کے کمیونسٹ انقلاب میں صرف ایک ہیروئین ہے۔ اور وہ قانون سازی کے لیے نہیں لڑ رہی یا ماؤ کی قریبی ساتھی نہیں ہیں، وہ بارش میں کھڑے ایک مرد گارڈ کو چھتری دیتے ہوئے دکھائی گئی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption کینیا کی ایک نصابی کتاب میں پیشوں میں مرد اور خواتین کی تقسیم

مؤثر تدریسی امداد

ماہرین کے مطابق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کتابیں ایک ایسی سوچ پیدا کرتی ہیں کہ ایک طالب علم کے نزدیک معاشرے میں عموعی رویہ کیا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایک طالب علم ایلیمنٹری سے ہائی سکول تک نصابی کتب کے تقریباً 3200 صفحات پڑھتا ہے۔ تقریبا 75 فیصد جماعت کا کام اور 90 فیصد گھر کا کام اسی میں سے کیا جاتا ہے، جن میں اساتذہ کی منصوبہ بندی بھی شامل ہوتی ہے۔

آرون بیناووٹ کہتے ہیں کہ اگرچہ انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے باعث سیکھنے کے طریقوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن 'غریب ممالک میں آج بھی کتابیں ہی بنیادی ذریعہ ہیں۔'

پروفیسر جیئر کے مطابق 'جب نصابی کتب محدود خیالات کی ترجمانی کریں گی کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو کیسا ہونا چاہیے پھر سکول جانے والے بچے اسی سے سماجی سبق حاصل کریں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیق کے مطابق ایک طالب علم ایلیمنٹری سے ہائی سکول تک نصابی کتب کے تقریبا 3200 صفحات پڑھتا ہے

اس طرح کی کتابوں کے بچوں کے خیالات پر اثرات کے حوالے سے کئی تحقیقات ہو چکی ہیں۔

اسرائیل میں پہلی جماعت کے طالب علموں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جنھیں مرد اور خواتین کی برابری کا سبق پڑھایا گیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیشتر پیشے مرد و خواتین دونوں کے لیے جبکہ جنھوں نے صنفی امتیاز والی نصابی کتب پڑھی ہیں ان میں دقیانوسی خیالات پائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption نائجیریا کی ایک نصابی کتاب میں مختلف پیشوں کی عکاسی

بہتری کی نشانیاں

اس کے باوجود گذشتہ ایک دہائی کے دوران بہتری آئی ہے۔

یونیسکو کی جی ای ایم رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صنفی برابری سے متعلق مواد میں اضافہ ہوا ہے، خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف زیادہ حوالہ جات شامل کیے گئے ہیں خاص طور پر یورپ، شمالی امریکہ اور افریقہ کے جنوبی یا جنوب سے متصل علاقوں میں۔

پروفیسر بلومبرگ کہتی ہیں کہ 'ایک آپ کسی سوئیڈش کتاب میں کسی کو ایپرن پہنے کسی برتن میں کچھ پھینٹتے دیکھیں تو زیادہ توقع یہی ہوگی کہ یہ کوئی مرد کردار ہوگا۔'

ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انگریزی زبان کی نصابی کتاب میں مرد اور خواتین کے کردار برابر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انگریزی زبان کی نصابی کتاب میں مرد اور خواتین کردار برابر ہیں

اردن، فلسطین، ویتنام، انڈیا، پاکستان، کوسٹا ریکا، ارجنٹائن اور چین میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔

لیکن قومی سطح پر نصابی کتب کی باریک بینی سے جانچ پڑتال ایک لمبا اور مہنگا کام ہے، جس کے راستے میں بجٹ کی رکاوٹ حائل ہے۔

آرون بیناووٹ کے مطابق کچھ تبدیلیاں سطحی ہیں اور حکومتوں کی جانب سے کیے گئے وعدے پائیدار نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption چین کی ایک نصابی کتاب میں لڑکوں اور لڑکیوں کو معاشیات پر مذاکرہ کرتے دکھایا گیا ہے

کچھ ماہرین اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جماعت میں تدریس کا متوازی طریقہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ایسی کوششیں انڈیا اور ملاوی میں کی گئی ہیں جس میں مقابلے کے رجحان کو فروغ دیا گیا ہے، اور گروہوں کی شکل میں دقیانوسی خیالات اور صنفی امتیاز پر سوالات اٹھانے کے حوالے سے مذاکرے کیے گئے ہیں۔

پروفیسر بلومبرگ کے مطابق 'اس مسئلے کو توجہ دینے سے حل کیا جا سکتا ہے اور طالب علم 'سراغ رسانی' کے کام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔'

'لیکن پہلے ہمیں اساتذہ کی تربیت اور بالآخر بہتر تعلیم کے لیے ان کتابوں کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO / GEM REPORT
Image caption بنگلہ دیش کی ایک کتاب میں ایک لڑکی کو فٹبال کھیلتے اور انڈیا کی ایک کتاب میں ایک مرد کو برتن دھوتے دکھایا گیا ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں