شمالی کوریا بحران: امریکی بمبار طیاروں کی جنگی مشقیں

جنوبی کوریا، امریکہ، جنگی مشقیں تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ اور جنوبی کوریا نے مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں جس کے دوران دو جنگی بمبار طیاروں نے جزیرہ نما کوریا کے اوپر سے بھی پروازیں کی ہیں۔

جنوبی کوریا کے پانیوں سے دور B-1B بمبار طیاروں اور جنوبی کوریا کے ایف K15 F- جنگی طیاروں نے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی مشق کی ہے۔

یہ مشقیں ایسے موقع پر کی جا رہی ہیں جب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران پیانگ یانگ نے اپنا چھٹا جوہری تجربہ کیا ہے اور جاپان کے اوپر سے دو میزائل فائر کیے ہیں۔

٭ ’ٹرمپ نے امریکہ کو تیسری جنگِ عظیم کی راہ پر ڈال دیا ہے‘

٭ ’امریکی فوج شمالی کوریا سے نمٹنے کے لیے تیار ہے‘

* ٹرمپ کی تقریر:’کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں'

* شمالی کوریا کا امریکہ پر اعلان جنگ کا الزام

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل مشترکہ مشقوں کے دوران بمبار طیاروں نے امریکہ کے زیر استعمال جزیرہ گوام سے منگل کی شب پرواز بھری اور مشرقی سمندر پر فائرنگ کی مشقیں کیں۔

یہ مشقیں شمالی کے خلاف 'وسیع تر دفاع' کے پروگرام کا حصہ ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکی بمبار طیاروں کی شمالی کوریا کے قریب جنگی مشقوں کے بعد شمالی کوریا کے وزیرخارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا امریکی بمبار طیاروں کو مار گرانے کا حق رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسی صورت میں بھی ہو سکتا ہے جب وہ شمالی کوریا کی فضائی حدود میں نہ ہوں۔

اس پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ کے بیان کو 'مٰضحکہ خیز' قرار دیا گیا تھا جبکہ پینٹاگان نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے موقعے پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے جانب سے شعلہ بیانی مہلک غلط فہمیوں کو جنم دے گی۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے مابین لفظوں کی جنگ میں شدت آئی ہے۔

کئی ہفتوں سے جاری اس تناؤ کے باوجود ماہرین کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین براہ راست تصادم کے خطرہ کو زیادہ نہیں ابھارا گیا تھا۔

اسی بارے میں