دس ممالک جہاں لڑکیوں کا سکول جانا مشکل

South Sudan تصویر کے کاپی رائٹ Unicef
Image caption جنوبی سوڈان لڑکیوں کی تعلیم کی حوالے سے بدترین ملک ہے

امیر ممالک میں سکولوں کے حوالے سے بحث کے موضوعات میں اہم ہوتا ہے کہ کس مضمون کو زیادہ اہمیت دی جائے، کس میں طلبا کو زیادہ مدد کی ضرورت ہے اور کس میں زیادہ وسائل لگانے چاہیئں۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں سوال انتہائی بنیادی ہوجاتا ہے کہ کیا بچوں کو سکولوں تک رسائی بھی حاصل ہے یا نہیں۔

لڑکیوں میں باصلاحیت ہونے کا یقین کم

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں دنیا کے غریب ترین ممالک میں سکولوں کی کمی کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایک دوسری رپورٹ میں معیارِ تعلیم کے بارے میں بتایا گیا کہ 60 کروڑ بچے سکول تو جاتے ہیں لیکن وہاں کچھ سیکھتے نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نائجر میں ہر پانچ میں سے چار بالغ عورتیں ان پڑھ ہیں

شورش زدہ علاقے

دس ممالک میں سے بیشتر میں لڑکیوں کے سکول نہیں ہیں۔

ان بدحال ممالک میں کئی خاندان غریب ہیں یا ان کی صحت خراب ہے، یا پھر وہ غذائیت کی کمی اور جنگ یا لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہیں۔

کئی نوجوان لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے جانے کے بجائے کام کرنا پڑتا ہے۔ کئی کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے جس کے بعد تعلیم کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوبی سوڈان میں لڑائی کے باعث لوگ بے گھر ہوئے

اس فہرست کے تیارے کرنے میں جن باتوں کا خیال رکھا گیا ان میں

  • پرائمری تک تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد
  • سیکنڈری تک تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد
  • پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد
  • سیکنڈری تک تعلیم مکمل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد
  • سکول جانے والی لڑکیوں کی اوسط تعداد
  • ناخواندہ خواتین کی شرح
  • اساتذہ کی تربیت کا معیار
  • طلبا کی تعداد کے حساب سے مطلوب اساتذہ کی تعداد
  • تعلیم پر خرچ کیے جانے والے وسائل

بعض ممالک جیسا کے شام کے حوالےسے قابلِ بھروسہ اعداد و شمار نہیں ملے۔

لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مشکل ترین ممالک:

جنوبی سوڈان

حال ہی میں معرضِ وجود میں آنے والے جنوبی سوڈان کو جنگ اور تشدد کا سامنا ہے۔ یہاں سکولز تباہ کر دیے گئے اور لوگوں کو جبراً بے گھر کیا گیا۔ لگ بھگ 75 فیصد لڑکیاں پرائمری تک تعلیم مکمل نہیں کر سکیں۔

سنٹرل افریقن رپبلک (سی اے آر)

یہاں 80 بچوں کے لیے ایک استاد ہے۔

نائجر

نائجر میں 17 سے 24 سال کی خواتین میں سے صرف 17 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔

افغانستان

افغانستان میں لڑکیوں کی نسبت سکول جانے والے لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Unicef
Image caption چاڈ میں لڑائی کی وجہ سے دسیوں ہزار لوگ تعلیم سے محروم رہ گئے

چاڈ

اس افریقی ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں متعدد معاشی اور معاشرتی رکاوٹیں حائل ہیں

مالی

صرف 38 فیصد لڑکیوں نے پرائمری تک تعلیم مکمل کی۔

گنی

گنی میں 25 سال سے زائد عمر کی خواتین اوسطاً ایک برس تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

برکینا فاسو

صرف ایک فیصد لرکیوں نے سیکنڈری تک تعلیم مکمل کی۔

لائبیریا

پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کی عمر کے دو تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

ایتھیوپیا

ہر پانچ میں سے دو لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم کی عمر میں کر دی گئیگ

اساتذہ کی کمی تمام غریب ممالک میں عام ہے۔ گذشتہ برس اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھی میں تعلیم کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے کم سے کم چھ کروڑ 90 لاکھ اساتذہ بھرتی کیے جانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر لڑکیوں کو بھی تعلیم فراہم کی جائے تو اس کے اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

اسی بارے میں