امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کتنے ذہین ہیں؟

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرمپ کو لوگ احمق کہتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ اندازوں سے زیادہ ذہین ہوں

سوال: صدر ٹرمپ آئی کیو کے بارے میں کتنی مرتبہ بات کرتے ہیں؟

جواب: ہر وقت۔

یہ ان کی تواتر سے جاری حرکتوں کا نمونہ ہی تھا جب انھوں نے کہا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ان کا آئی کیو زیادہ ہے۔

2013 میں انھوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ ان کا آئی کیو جارج بش اور براک اوباما دونوں سے زیادہ ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کا آئی کیو اداکار جان سٹیورٹ اور برطانوی ٹیلیویژن شو ’ایپرینٹس‘ کے میزبان لارڈ شوگر سے زیادہ ہے۔

ان تمام دعوؤں کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے آئی یو کا سکور کبھی ظاہر نہیں کیا۔ تو کیا ہم کسی طرح اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ کے پاس یونیورسٹی آف پینسیلوینیا کے سکول آف وارٹن کی ڈگری بھی ہے۔

آئی کیو ہوتا کیا ہے؟

آئی کیو کسی شخص کا وہ سکور ہوتا ہے جو اس کے ٹیسٹ لیے جانے کے بعد حاصل کیا جاتا ہے۔

اس وقت آئی کیو ماپنے کے لیے کوئی ایک آئی کیو ٹیسٹ نہیں ہے۔ مینسا نامی ادارہ اپنے ٹیسٹ سمیت تقریباً 200 کے قریب آئی کیو ٹیسٹوں کو استعمال کرتا ہے۔ کچھ ٹیسٹ ایک گھنٹہ طویل ہوتے ہیں کچھ کی وقت کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی۔

تاہم ایک اندازے کے لحاظ سے حجم سے متعلق سوالات شکلوں کے بارے میں ہوتے ہیں، مقداری سوالات ریاضی سے ہوتے ہیں، اور زبان اور تحریر سے متعلق سوالات الفاظ کی صورت میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر یہ سوال کہ ایک لفظ دوسرے سے کس طرح ملتا ہے۔

مینسا ان لوگوں کو ٹیسٹ میں کامیاب قرار دیتی ہے جن کا سکور چوٹی کے دو فیصد میں شمار ہوتا ہے، اور یہ کم و بیش 130 آئی کیو کے برابر بنتا ہے۔

زیادہ ذہین صدور کون رہے ہیں؟

یونیورسٹی آف ورجینیا کے ملر سینٹر میں پریزیڈینشل سٹڈیز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر باربرا اے پیری کہتی ہیں ان کے علم میں امریکی صدور کے آئی کیو کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں ہے۔

’لیکن آپ صدور کے ناموں کی فہرست ان کے زمانہ طالب علمی کے دوران ان کی یونیورسٹیوں کی فائی بیٹا کپا سوسائیٹیز میں شامل اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں والے طلبہ کے ناموں کی فہرست دیکھ سکتے ہیں۔

فائی بیٹا کیپا ادارہ 1776 میں قائم ہوا اور اس میں لبرل آرٹس اور سائنس کے مضامین میں امریکہ کی 286 بہترین یونیورسٹیوں سے ذہین ترین انڈر گریجویٹ جماعتوں کے طلبہ کے نام اعزاز کے طور پر شامل کیے جاتے ہیں۔

امریکہ کے 44 صدور میں سے 17 فائی بیٹا کیپا کی فہرست میں موجود ہیں۔ بل کلنٹن، جارج ڈبلیو ایچ بش اور جمی کارٹر کے نام اس فہرست میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر پیری کئی اور ناموں کے علاوہ ہربرٹ ہوور کا نام لیتے ہیں جو ایک سائنس دان اور ماہر ارضیات تھے، ووڈرو ولسن جو واحد پی ایچ ڈی صدر تھے، اور ولیم ٹفٹ جو زبردست وکیل تھے۔

اگرچہ کسی بھی صدر کا آئی کیو ماپا نہیں گیا ہے تاہم یونیورسٹی کے اندازے کے مطابق جان کیوئینسی ایڈم سب سے زیادہ ذہین صدر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1945 کی یالٹا سربراہی کانفرنس کے موقع پر ونسٹن چرچل، فرینکلن روزوولٹ اور جوزف سٹالن

ڈاکٹر پیری کا کہنا ہے کہ کچھ صدور کو ایک ایسی شہرت یا بدنامی ملی جس کے وہ حق دار نہ تھے۔

’جیرالڈ فورڈ کو بےڈھنگا صدر کی شہرت ملی کیونکہ وہ ایک مرتبہ کسی تقریب میں پھسل گئے تھے۔ لیکن یہ ان کے ساتھ زیادتی تھی۔

ان کے پاس یونیورسٹی آف مشی گن کی انڈر گریجویٹ ڈگری تھی، جہاں سے ان کا تعلق تھا، وہ ایگل سکاؤٹ تھے، وہ ییل یونیورسٹی میں قانون پڑھنے گئے اور سب سے بڑھ کے وہ فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔‘

پیری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذہانت کئی عوامل میں سے ایک ہے جو ایک اچھا صدر بناتی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس آلیور ہومز جنھوں نے فرینکلن روزوولٹ کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں دوسرے درجے کی دانش ہے مگر وہ اعلیٰ درجے کا مزاج رکھتے ہیں۔

روزوولٹ 1936 میں دو تہائی اکثریت سے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

اور سب سے کم ذہین صدور کون تھے؟

ڈاکٹر پیری کہتی ہیں کہ ’میں اس فہرست میں وہ وارن ہارڈنگ کا نام لوں گی۔ وہ تربیت کے لحاظ سے صحافی تھے۔‘

یہ تکلیف دہ بات ہے۔

انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میرے کچھ بہترین دوست صحافی ہیں۔

’اور میرا تو بھائی بھی صحافی ہے۔ لیکن میرا نکتہ یہ ہے کہ وہ (وارن ہارڈنگ) ہارورڈ یا ییل سے پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ اور وہ کوئی بہترین وکیل نہیں تھے جو سپریم کورٹ میں جج بن پاتے۔‘

تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کس فہرست میں شامل کیے جا سکتے ہیں؟

ڈاکٹر پیری کہتی ہیں کہ ’اگر وہ اپنی آئی کیو کا سکور جاری کرتے ہیں تو، مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ، کیونکہ وہ ٹلرسن کو چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ اپنا سکور جاری کرے، ان کا سکور لوگوں کے اندزاوں سے زیادہ نکلے۔

’لوگ انھیں پسند نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ وہ احمق ہیں، وہ بہت ہی بے وقوف ہیں، لیکن میں آپ سے شرط لگا سکتا ہوں کہ وہ ہمارے اندازوں سے زیادہ بہتر نکلیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پروفیسر فریڈ گرینسٹائین، جو پرنسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں، کسی بھی صدر کی کارکردگی جانچنے کے لیے چھ خصوصیات گنواتے ہیں۔

اور وہ یہ ہیں: ابلاغ عامہ، تنظیمی صلاحیت، سیاسی فہم و فراست، معاملہ شناسی، اور جذبات پر قابو۔

ڈاکٹر پیری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جذبات پر قابو، معاملہ شناسی اور تنظیمی صلاحیت میں سکور کم ہے۔

لیکن جس چیز میں وہ زبردست ہیں اور جس کی وجہ سے وہ صدر بنے وہ ہے ان کی سیاسی سمجھ بوجھ اور ابلاغ عامہ کی صلاحیت۔

ڈاکٹر پیری ٹرمپ کی کاروباری ترقی کا بھی اشارہ دیتی ہیں: ’ظاہر ہے کامیابی کے لیے ان میں ایک مقامی قسم کی ذہانت تھی، جیسا کہ وہ ہیں۔‘ اور پھر ان کے پاس یونیورسٹی آف پینسیلوینیا کے سکول آف وارٹن کی ڈگری بھی ہے۔

مینسا کے ڈاکٹر لالس کہتے ہیں کہ بہرحال ٹرمپ کا آئی کیو کم ہے یا زیادہ، اس سے آپ کو ہر بات پتہ نہیں چلتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی کو لیں جسے ہم آئن سٹائن کی طرح ذہین و فطین سمجھتے ہوں، وہ ہو سکتا ہے کہ آئی کیو کے ٹیسٹ میں اچھا سکور نہ کر سکیں، کیوں کہ ایسا شخص آؤٹ آف باکس سوچتا ہے۔

’ہو سکتا ہے کہ وہ ایک سوال کے جواب میں درجنوں جواب سوچ لیں۔‘

جو بھی ہو، لگتا ہے کہ اب اس موضوع پر گفتگو کا وقت جلد ختم ہو جائے۔ تاہم مینسا نے پیش کش کی ہے کہ وہ ٹرمپ اور ٹلرسن دونوں کو ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں