ٹرمپ کی ’نئی‘ ایران پالیسی اور اس کی راہ میں حائل مشکلات

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کی ایک بھیانک تصویر کھنچی ہے۔ ایک ایسے ظالم اور دقیانوسی ملک کی جو ایک انقلابی سوچ کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہر موڑ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔

سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے نرمی جو رویے کے برعکس ارب پتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کا گلہ دبانے پر تلی ہوئی ہے تاکہ جوہری معاہدے کو سو فیصد موثر بنایا جا سکے اور ایران کے خطے میں اثر و رسوخ کا توڑ کیا جا سکے۔

ایران کے خلاف اس سخت گیر رویے کا اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ یہ کسی حد تک اوباما کی پالیسی سے مختلف ہے؟ اور اس کے کیا ممنکہ نتائج نکل سکتے ہیں؟

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی ٹرمپ کی طرف سے سختی سے مخالفت کو دیکھتے ہوئے جو چیز قابل حیرت ہے وہ یہ کہ امریکہ اس معاہدے سے نکل نہیں رہا۔ امریکہ کا صدر بڑی آسانی سے ایران کے خلاف جوہری پابندیاں بحال کرسکتا تھا اور اس کے لیے انھیں کیپیٹل ہل یا پارلیمان سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

اس کے باوجود انھوں نے جوہری معاہدے کو کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔

وہ واضح طور پر یہ چاہا رہے ہیں اور کانگریس کے سرکردہ رہنما پہلے سے ہی امریکی قوانین میں ایسی ترامیم پر کام کر رہے ہیں جن کے بعد ایران ان ترامیم میں متعین کردہ کوئی بھی اقدام کرے گا تو خود بخود اس پر پابندیاں لاگو ہو جائیں گی۔

اس قسم کا تاثر بھی موجود ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس اس معاہدے کے تحت چند پابندیاں جن کے اٹھائے جانے کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے اور جن کو اس معاہدے کے تحت ’سن سیٹ‘ شقوں کا نام دیا گیا انھیں بے معنی بنا دیا جائے ان اقدامات سے مشروط کر دیا جن کے اٹھاتے ہیں ایران پر خودبخود پابندیاں عائد ہو جائیں۔

اگر امریکی قوانین میں ان ترامیم پر اتفاق ہو گیا تو کیا صورت پیدا ہو گی؟

لیکن یہ عمل کتنا غیر معمولی ہوگا اس کو نوٹ کیے جانے کی ضرورت ہے۔

دراصل اندرونی یا ملکی قوانین کے سہارے یہ ایک کثیرالملکی معاہدے کو بدلنے کی کوشش ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس راستے میں سفارتی مشکلات آئیں گی۔ اس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن کی ماسکو اور بیجنگ سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید براں عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھنے لگے گا کہ جب بات بین الاقوامی معاہدات کی ہو گی تو واشنگٹن کی زبان پر کس حد تک اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

شمالی کوریا کو اس سے کیا سبق ملے گا جس کو امریکہ کے اپنے وزیر خارجہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی افادیت کے بارے میں بھی کوئی خوش کن تصویر پیش نہیں کی اور ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ اور پابندیاں ایسے وقت اٹھائی گئیں جب ایران کی حکومت دھڑام سے زمین پر آنے والی تھی۔

کچھ لوگ ہی اس بات کو تسلیم کریں گے۔ جبکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ایک ایسے وقت ہوا تھا جب اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کا خطرہ شدت اختیار کر گیا تھا اور اس جنگ میں امریکہ یقیناً اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اس معاہدے سے اس جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور ایران کے جوہری پروگرام بھی معطل ہو گیا ہے۔

یقینی طور پر ٹرمپ اس معاہدے کی حامیوں کی نشاندہی کرنے میں حق بجانب ہیں۔ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا اس معاہدے میں ذکر نہیں ہے اور ایران تیزی سے ان میزائیلوں کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ اس معاہدے کی روح سے بہت سے پابندیاں ایک معینہ مدت کے بعد ختم ہو جائیں گی۔ بہت سے ملکوں کو خیال ہے ان خامیوں کو مناسب وقت پر دور کیا جا سکتا ہے لیکن یہ واضح ہے کا ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ٹرمپ نے ایران کی طرف سے اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی لیکن انھوں نے یہ بات نہیں کی کہ جب اس معاہدے تحت کے اختلاف کو دور کرنے کے طریقہ کار کے مطابق ایران کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ایران نے اپنے ایسے اقدامات کو روک دیا۔

اس معاہدے کو فی الحال نہ چھڑنے کے فیصلے نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا ٹرمپ اس معاہدے کو مزید سخت اور مستحکم بنانے کے لیے کوئی موقع کی تلاش میں ہیں یا وہ اس کو کمزور کرنے کی تاک میں ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان صرف جوہری پروگرام پر تنازع دونوں ملکوں کے اختلافات کی طویل فہرست میں سے صرف ایک مسئلہ ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو قائم رکھنے کے بہت سے حامی خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کی کارروائیوں پر صدر ٹرمپ کی تشویش سے اتفاق کریں گے۔

ٹرمپ ایران کے حوالے سے اس طرح بات کرتے ہیں جیسے ان سے پہلے اوباما انتظامیہ نے ایران کے خلاف اس کے نامناسب رویے، دہشت گردی کی مبینہ حمایت اور اپنے عوام کے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں نہ کی ہوں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کو ایک درج مزید بڑھا دینا چاہیں خصوصاً ایران کے پاسداران انقلاب کے خلاف۔ لیکن ٹرمپ کی اس نئی پالیسی میں لفاظی زیادہ ہے اور اس میں دم خم زیادہ نہیں ہے۔

ٹرمپ ایران کی خطے میں وسیع تر کارروائیوں اور جیسے کہ انھیں لگاتا ہے ناکام ہوتے ہوئے معاہدے سے پابندیوں میں نرمی میں ایک واضح تعلق جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کو اب زیادہ مالی وسائل دستیاب ہیں۔ اس نکتے پر ٹرمپ کی بات میں وزن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Handout via REUTERS

ٹرمپ کی تقریر سے قبل امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلی اہلکار جون بی الٹرمین نے پچھلی انتظامیہ کی سوچ کی وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ دفاعی اعتبار سے سب سے خطرہ نکتے پر پوری توجہ مرکوز رکھنا چاہتی تھی اور جو جوہری ہتھیاروں کو معاملہ تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دوسرے معاملات کو حل کرنے کے لیے ان کے پاس دوسرے طریقہ موجود تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کی سوچ یہ تھی کہ بتدریج ایران سے رابطے کھلیں تاکہ ایران کے اندر ایسے حلقوں کو حوصلہ ملے اور وہ مستحکم ہوں جو چاہتے ہیں کہ ایران کسی بھی دوسرےعام ملک کی طرح کا رویہ اختیار کرے۔

ایسا نہیں ہوا ۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہو گا کہ ایران میں آج یقینی طور پر ایک معتدل حکومت ہے اور جس کی ایک وجہ اقتصادی فوائد ہیں جو جوہری معاہدے کے بعد حاصل ہوئے۔ کچھ لوگ شاید یہ کہیں کہ پاسداران انقلاب کے سخت گیر موقف رکھنے والے عناصر نے بیرونی سطح پر اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کر لیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہم خطے میں ایران میں بدلتے ہوئے کردار کے بنیادی سوال پر آ جاتے ہیں۔ یہ سارے عمل امریکہ نے صدام حسین کو ہٹا کر غیر ارادی طور پر شروع کیا جو دفاعی لحاظ سے ہمشیہ سے ایران کے سامنے ایک دیوار تھا۔ عراق میں صدام حکومت کے بعد سے شروع ہونے والی افراتفری اور عدم استحکام کا ایران نے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کیے ہیں۔ کیا یہ صرف ایران کے بد نیتی پر مبنی ارادوں کی وجہ سے تھا یا اس کے خطے میں اس کے سٹریٹیجک مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش؟ اس میں کس طرح لائن کھینچی جا سکتی ہے یا اس کو کس طرح واضح کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TIMA via REUTERS

یہ نکتہ بہت اہم ہے کیوں کہ یہ خطہ اب بہت سنگین اور نازک دور میں داخل ہو رہا ہے۔ شدت پسند دولت اسلامیہ نامی تنظیم کو شکست ہو چکی ہے اور عراق اور شام میں مالی غنیمت کے لیے جنگ ہو رہی ہے۔ عراق کی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی حکومت پر ایران کا کافی اثر ہے اور اس کے علاوہ بہت سی مسلح تنظیموں بھی اس کے موقف کی تائید کرتی ہیں اور اس کی مربی ہیں۔ شام میں ایران اسد حکومت کا کلیدی ساتھی ہے جس کی وجہ سے وہ اوراس کے زیر اثر بہت سی نتظیمیں براہ راست امریکی کی حمایت یافتہ گروپوں کے مخالف کھڑے ہیں۔

کیا یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کا وقت ہے؟ اور یہ یہ وقت مشترکہ طور پر مذاکرات کے موقع کو سنبھالنے کا وقت ہے؟

سفارت کاری کی گھسی پٹی تعریف یہ کہ یہ ممکنات کا آرٹ یا فن ہے۔ جوہری معاہدہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود فی الحال واحد حل میسر تھا۔

یہ معاہدہ جیسے تیسے چل رہا ہے شاید کمزور ہوا ہے لیکن ختم نہیں ہوا ہے۔ ایران کو روکنے کی ٹرمپ کی کوششیوں کے خدوخال واضح نہیں ہوئے ہیں اور ان کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریر صدر ٹرمپ خیالات اور ان کے اعلی ترین فوجی اور سول حکام کی سوچ میں ایک تلخ سمجھوتے کی عکاس ہے۔ وہ سب ایران کے خلاف سخت پابندیوں کو عائد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے جوہری معاہدے کی اس کی تمام تر خامیوں کے باوجود حمایت بھی کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں