آسٹریا: سیباستیان کرز دنیا کے کم عمر ترین قومی رہنما بننے کی راہ پر

آسٹریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2013 میں جب انھیں وزیرخارجہ تعینات کیا گیا تھا تو اس وقت ان کی عمر 27 برس تھی

آسٹریا میں انتخابی اندازوں کے مطابق قدامت پرست سیاسی جماعت پیپلز پارٹی ملک میں منعقدہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے جارہی ہے۔

اس جماعت کی کامیابی سے اس کے 31 سالہ سربراہ سیباستیان کرز دنیا کے کم عمر ترین قومی حکمران بن جائیں گے۔

پیپلز پارٹی کو 31 فیصد سے زائد ووٹ ملنے کی توقع ہے تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے شومل ڈیموکریٹس یا دائیں بازو کی جماعت فریڈم پارٹی میں سے دوسرے نمبر پر کون سی جماعت آئے گی۔

واضح اکثریت نہ حاصل ہونے کی صورت میں سیباستیان کرز کی جماعت تارکین وطن مخالف جماعت فریڈم پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

’سیاست کے لیے خدا کو استعمال نہیں کیا جا سکتا‘

آسٹریا: عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی

انتخابات سے قبل سیباستیان کرز یورپ کے کم عمر ترین وزیرخارجہ کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں، سنہ 2013 میں جب انھیں وزیرخارجہ تعینات کیا گیا تھا تو اس وقت ان کی عمر 27 برس تھی۔

مئی 2017 میں وہ پیپلز پارٹی کے سربراہ بن گئے تھے۔ انھوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز اسی جماعت کے یوتھ ونگ سے کیا تھا اور بعد ازاں ویانا کی سٹی کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

ان کی عرفیت ’وندروزی‘ ہے جس کا مطلب ’ایسا شخص جو پانی پر چل سکتا ہے‘ بنتا ہے۔

ان کا موازنہ اکثر فرانسیسی صدر یمینوئل میکخواں اور کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

ایمینوئل میکخواں کی طرح سیباستیان کرز نے بھی 30 برسوں سے برسراقتدار پیپلز پارٹی میں نئی روح پھونکی ہے اور اسے ’دا نیو پیپلز پارٹی‘ کا نام دیا جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سباستیان کرز کی جماعت تارکین وطن مخالف جماعت فریڈم پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے

انتخابی اندازوں کے مطابق سیباستیان کرز کی جماعت بیشتر ووٹ حاصل کرنے جارہی ہے لیکن وہ اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔ ایسی صورت میں انھیں ممکنہ طور پر فریڈم پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرنا پڑے گا۔

گذشتہ دور میں سوشل ڈیموکریٹس اور قدامت پرستوں کے درمیان اتحاد ٹوٹ گیا تھا اور اب دوبارہ اتحاد کی امید نہیں کی جارہی۔

تاہم دائیں بازو کی جماعت فریڈم پارٹی کے ساتھ اتحاد دیگر یورپی یونین ممالک میں منتازع ہوسکتا ہے۔

انتخابات میں فریڈم پارٹی نے تقریباً 26 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جو اب تک ان کی سب سے زیادہ شرح ہے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس اور ہالینڈ میں شکست کے باوجود تاحال انتہائی دائیں بازو کی سیاست نے دم نہیں توڑا ہے۔

خیال رہے کہ ان عام انتخابات میں تارکین وطن اور مائیگریشن ایک اہم موضوع رہا ہے اور سیباستیان کرز نے یورپ میں سنہ 2015 کے تارکین وطن بحران کے دوران اپنی جماعت کا جھکاؤ دائیں بازو کی جانب کر لیا تھا۔

انھوں نے قدامت پرست اور دائیں بازو کے ووٹرز سے عہد کیا تھا کہ وہ یورپ آنے والے تارکین وطن کے راستوں، مہاجرین کے مالی امداد بند کر دیں گے، اور آسٹریا میں رہنے والے امیگرینٹس کو اس وقت تک اضافی سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی جب تک وہ کم از کم پانچ سال تک یہاں نہیں رہتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں