امریکہ کی کرکوک میں فریقین سے ’پرامن‘ رہنے کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

عراق میں حکومتی فورسز کی جانب سے کرد جنگجوؤں کے زیرِ قبضہ متنازع شہر کرکوک کے نواحی علاقوں میں اہم تنصیبات پر قبضے کے بعد امریکہ نے فریقین سے ’پرامن‘ رہنے کا کہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئیرٹ نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ’مزید جھڑپوں سے باز رہیں۔‘

خیال رہے کہ عراق کی حکومتی افواج نے یہ کارروائی کردستان کے خطے میں آزادی کے لیے متنازع ریفرینڈم کے انعقاد کے ایک ماہ بعد شروع کی تھی۔

عراقی فوج کی اس پیش رفت سے قبل ہی لاکھوں لوگ اس شہر کو چھوڑ چکے ہیں۔

پیشمرگہ کو کرکوک سے نکلنے کی مہلت ختم

عراقی کردستان کے ریفرنڈم میں اکثریت آزادی کے حق میں

کرد آزادی چھوڑ دیں یا پھر بھوکے رہیں: اردوغان

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ترجمان ہیدر نوئیرٹ نے کہا ’امریکہ کو کرکوک کے اردگرد ہونے والے تشدد کی اطلاعات پر شدید تشویش لاحق ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے مزید کہا ’ہم علاقائی اور مرکزی حکومتوں کے درمیان عراقی آئین کے تحت تمام متنازع علاقوں میں پرامن، مشترکہ نظام کی حمایت کرتے ہیں۔‘

مس نوئیرٹ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’عراق میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو شکست دینے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہے، اور امریکہ تمام جماعتوں کے حکام کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل عراقی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا اس کے یونٹس نے کے ون فوجی اڈے، بابا گروگر آئل اینڈ گیس فیلڈ اور تیل کی ریاستی کمپنی کے دفاتر پر حکومتی اختیار بحال کر لیا گیا ہے۔

بغداد کا کہنا ہے کہ پیشمرگہ نے لڑے بغیر ہی یہ علاقے چھوڑ دیے تھے تاہم کرکوک کے جنوبی علاقوں سے کچھ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

کرکوک سمیت کرد علاقوں میں علیحدگی کی بھرپور حمایت کا اظہار کرنے والی اس رائے شماری کو عراقی وزیرِ اعظم نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ کردستان کی علاقائی حکومت نے اسے قانونی قرار دیا تھا۔

عراقی حکومت چاہتی کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے ایک بیان میں کہا کہ کرکوک کے خلاف کارروائی ’ملک کے اتحاد کے لیے ضروری تھی جس کے اس ریفرنڈم کے بعد منقسم ہونے کے خطرہ تھا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ’ہم تمام شہریوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہماری جانباز فورسز کے ساتھ تعاون کریں جو ہماری سخت ہدایات کے تحت ترجیحاتی بنیادوں پر تمام شہریوں کے تحفظ اور سالمیت اور امن کی بحالی کے لیے ہماری ریاستی تنصیبات اور اداروں کی حفاظت کر رہی ہیں۔‘

اس سے قبل عراقی فوج نے اعلان کیا تھا کہ کے ون اڈے پر اس کی ایلیٹ یونٹ پھر سے تعینات کی جائے گی۔ یہ اڈہ کرکوک شہر سے شمال مغرب کی جانب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

فوج کا مزید کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے فوجی ہوائی اڈے، پولیس سٹیشن، بجلی گھر اور متعدد صنعتی علاقوں سمیت کئی اہم سڑکوں، پلوں اور چوراہوں پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

کردستان کی علاقائی سکیورٹی کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ بغداد کتی حکومت نے ان پر بلااشتعال حملہ کیا ہے اور یہ کہ پیشمرگہ کردستان اور اس کے لوگوں کے مفادات کا دفاع کرتی رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پیشمرگہ نے پانچ امریکی ساختہ ہموی (فوجی جیپیں) تباہ کیں۔

پیش مرگہ کے ترجمان برگیڈیئر جنرل بہزاد احمد نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کرکوک کے شمال میں ہونے والی لڑائی میں متعدد لوگ مارے گئے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی حامی فورسز نے کئی مکانات کو نذرِ آتش کیا اور کئی لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔‘

ان خبروں کی تصدیق کا کوئی راستہ نہیں تاہم طوزخورماتو نامی علاقے میں ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دو افراد گولہ باری کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار امریکی اتحادی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب تک عراقی فوج اور پیشمرگہ دونوں کی مربوط نقل و حمل دیکھی ہے تاہم کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں