MeToo#: 'اس نے کہا میں جنسی طور پر تم پر فدا ہوں'

سوشل میڈیا پر MeToo# نامی ہیش ٹیگ کے تحت جاری مباحثے سے یہ پتہ چلتا ہے دنیا میں جنسی ہراسانی کس وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔ بی بی سی کی رجنی ویدیاناتھن نے بھی اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔

میں اس وقت 25 سال کی تھی۔

ایک کہانی پر ہم اپنا کام ختم کرنے کے بعد نیویارک کے ایک اطالوی ریستوراں میں تھے۔ اس وقت میں ایک حوصلہ مند پروڈیوسر تھی اور حال میں رپبلکن پارٹی کے کنونشن کے لیے مین ہٹن گئی تھی۔

میرے دیگر ساتھی جا چکے تھے اور میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ عشائیے کے لیے رک گئی تھی۔ ہم ایسٹ ویلج کے ایک اطالوی ریستوران گئے جہاں ہم نے جارج ڈبلیو بش اور جان کیری کے بارے میں مختصر بات کی۔

اسی وقت اس نے کہا۔ 'میں ناقابل یقین حد تک جنسی طور پر تم پر فدا ہوں۔ میں تمہارے بارے میں سوچنا ترک نہیں کر سکتا۔'

میرے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ میں گر گیا جس میں ابھی بھی سپیگیٹی الجھی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

خدا کا شکر ہے ایشوریہ بچ گئیں

’سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے؟‘

جنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین کون ہیں؟

وہ مجھ سے عمر میں دگنے اور میرے لیے قابل احترام شخص تھے جن کی ایک گرل فرینڈ بھی تھی۔ پہلے بھی دفتر میں جنسیت سے میرا سابقہ پڑا تھا لیکن اتنے کھلے انداز میں نہیں۔

مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے اس وقت کیا کہا تھا لیکن میرا جواب بہت مہذب تھا کیونکہ میں نے بات کا رخ موڑنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ میری خوبصورتی کی تعریف کرتے رہے اور میں نے کسی طرح جلدی جلدی پاستا ختم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہالی وڈ کی کئی اداکاراؤں نے ہاروی وائن سٹین کے ساتھ اپنے تجربات بیان کیے

اس وقت مجھے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس نے جو کچھ کہا اس کے بارے میں ٹھیک طور پر شکایت کر سکتی ہوں لیکن وہ بہت ناخوشگوار تھا اور میں نے بہت برا محسوس کیا۔

اب میں جانتی ہوں کہ وہ قطعاً ناقابل قبول تھا جو اس بات کی یاددہانی تھی کہ کس طرح کچھ لوگ دفاتر میں خواتین کو لبھانے، پریشان کرنے اور ان کا استحصال کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں۔

دفتر، کیمپس اور گلی محلوں میں ہراسگی

ہاروی وائن سٹین کے متعلق جاری مباحثے نے ہماری خاتون دوستوں کے درمیان بے شمار مباحثے کو جنم دیا ہے کہ ان حالات میں خط فاصل کیا ہے اور کہاں ہمیں بولنے کی ضرورت ہے۔

کیا اسے شمار کرنے کے لیے ہاتھ لگایا جانا ضروری ہے؟ اگر ان کے ساتھ آپ کی دوستی ہے تو کیا ہوگا؟ ہراسگی کب شروع اور کب ختم ہوتی ہے؟

ہاروی وائن سٹین کے معاملے نے ہالی وڈ میں اس نفرت انگیز عمل پر روشنی ڈالی ہے لیکن یہ اس جانب بہت ہی مایوس کن اشارہ جس سے دنیا بھر میں زندگی کے مختلف شعبوں میں روزانہ عورتیں گزرتی ہیں۔

چند سال قبل ایک شادی شدہ سابق دوست نے مجھے اپنی جنسی خواہشات کے واضح پیغامات بھیجنے شروع کردیے۔

انھوں نے لکھا: 'میں خود کو محظوظ کرنے کا عادی ہوگیا ہوں۔ میرا خود پر قابو نہیں رہا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاروی وائن سٹین کے خلاف شکایات کے بعد دنیا بھر میں لوگ خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی حراسگی پر بات کر رہے ہیں

میں ڈر گئی۔ میں نے سوچـا کہ مجھے مہذب رہنا چاہیے کیوں ہو سکتا ہے کہ ہم مستقبل میں پھر سے ایک بار ساتھ کام کر رہے ہوں۔ (ایسے حالات میں خواتین ہی کیوں سوچتی ہیں کہ انھیں نرمی اختیار کرنی چاہیے؟)

اس کا جواب کیا دوں مجھے واقعی علم نہیں تھا اس لیے میں نے اس سے کہا کہ بعض مردوں کے لیے یہ عام بات ہے۔ امید تھی کہ وہ پیغام بھیجنا بند کر دیں گے۔

لیکن ان کے پیغامات جاری رہے اور وہ مزید گھٹیا ہوتے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں طاقتور خواتین کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کا خیال آتا ہے اور وہ اپنی بیوی کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ اس بارے میں مجھے سے بات نہ کریں اور کسی سے مدد حاصل کریں۔

پہلے پہل اس کے بارے میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ مجھے بہت برا لگا تاہم میں نے اسے خود تک محدود رکھا۔

کچھ مہینے بعد جب میں ایک خاتون ساتھی سے بات کر رہی تھی تو اس نے مجھے بتایا کہ ایک شخص برسوں سے اسے گندے پیغامات بھیج رہا تھا۔ وہ وہی شخص تھا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ اب کوئی تو ہے جس سے بالآخر میں اپنی کہانی بیان کر سکتی ہوں۔

کچھ دنوں بعد میں نے سنا کہ اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔ کسی نے ان کے خلاف شکایت کر دی تھی۔

استحصال کی سطح خواہ کچھ بھی ہو لیکن جب یہ پتہ چلتا ہے کہ کوئی اس طرح کے واقعے سے دوچار ہوا تو پھر بولنا آسان ہو جاتا ہے۔ بل کوسبی کے معاملے کو ہی لے لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اداکارہ ایلیزا میلانے نے دنیا بھر کی خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں

میں نے امریکہ کے کالج کیمپسز میں جنسی حملے کا شکار بہت سی لڑکیوں کے انٹرویو کیے ہیں جو یہ سوچ کر سامنے نہیں آتیں کہ ان پر یقین نہیں کیا جائے گا۔

بہت مرتبہ مرد یہ سمجھ نہیں پاتے کہ اس سے کیسے نمٹیں کیونکہ انھیں اس کا سابقہ نہیں ہوتا ہے۔ انھیں وہ باتیں سننے کو نہیں ملتیں جو عام طور پر خواتین کو سننی پڑتی ہیں۔

بہت سے واقعات میں سے یہ دو واقعات صرف مثال کے لیے ہیں جس سے میرا سابقہ پڑا۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرے پر اپنے ایک شادی شدہ دوست کے کھٹکھٹانے اور معنی خیز پیغام بھیجنے کے واقعے کا ذکر کرنا بھول گئی۔

اس بار میں نے باتھ روم میں بھاگ کر اپنے ایک دوستانہ مرد ساتھی کو فون کیا جس نے کہا کہ اگر مجھے پھر خوف محسوس ہو تو میں اسے فون کروں۔

اس واقعے سے مجھے یہ یاد آتا ہے کہ بہت سے مہذب مرد ہیں جو آپ کی اس جنگ میں آپ کے ساتھ ہیں۔

جب میرے دوست بتاتے ہیں کہ کس طرح کشتیوں پر کام کرتے ہوئے ان کو ٹٹولا جاتا ہے، انھیں کام صرف اس لیے نہیں دیا جاتا کہ وہ فلرٹ نہیں کرتیں تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سی چیزوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

لیکن ہالی وڈ اور اس کے سوا جو خوفناک کہانیاں سامنے آ رہی ہیں ان کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ جتنا لوگ اس کے بارے میں بات کریں گے یہ اتنا ہی ناقابل قبول ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں