MeToo# ’والدین کو اپنی بیٹیوں کو ایسے واقعات سے بچاؤ کے طریقے بتانے چاہییں‘

MeToo# تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اداکارہ ایلیزا میلانے نے دنیا بھر کی خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں

یہ سلسلہ 140 الفاظ تک محدود رہنے والے ایک ٹویٹ سے شروع ہوا تھا جس نے چند ہی گھنٹوں کے دوران دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر ایک مہم کی شکل اختیار کرلی ہے۔

امریکی اداکارہ الیزا میلانے نے ٹویٹ کی جس میں خواتین سے کہا گیا کہ اگر انھیں کسی بھی قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ ان کے ٹویٹ کے جواب میں ’می ٹو‘ لکھ کر ری ٹویٹ کریں تاکہ اس سے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد کا اندازہ ہوسکے۔

اس ٹویٹ کو کئی ہزار جوابات اور ری ٹویٹس ملے اور پھر ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ وجود میں آگیا اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین اس مہم میں شامل ہو گئیں۔ پاکستان میں منگل کو MeToo# ٹاپ ٹرینڈ رہا ہے۔

اس میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی وزیر نے ٹویٹ کی کہ 'میں پاکستانی سیاستدان ہوں۔ میری سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان نے مجھے ہراساں کیا اور اب وہ تحقیقات سے بھاگ رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیے

'اس نے کہا میں جنسی طور پر تم پر فدا ہوں'

’سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے؟‘

جنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین کون ہیں؟

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی نورین زہرا نے اپنے فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا کہ 'ہاں میں بھی، شرمندہ کر کے چپ نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر ہر کوئی جسے کسی نا کسی کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے اپنے سٹیٹس میں می ٹو لکھے تو اس سے اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے گا‘۔

ایک اور نجی چینل سے وابسطہ خاتون صحافی بینش وقاص نے فیس بک پر اپنے سٹیٹس میں لکھا 'انھیں خاصا وقت لگا اس بارے میں بتانے کے لیے۔ والدین کو اپنی بیٹیوں کو ایسے واقعات سے بچاؤ کے طریقے بتانے چاہییں۔۔۔ یہ آپ کا فرض ہے'۔عروج رضا سیامی وکیل، شاعرہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں۔ انھیں بھی ہراساں کیا گیا لیکن انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہی دو خواتین کو ہراساں کیے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

عائشہ گلالئی اسماعیل کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے اور وہ 'اویئر گرلز' کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ ہیں اور دولت مشترکہ کا ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ انھوں نے ٹویٹ کیا کہ 'اگر آپ پشاور میں رہتی ہیں تو ہراساں کیا جانا معمول کی بات ہے۔ می ٹو کے ٹرینڈ پر زیادہ تر مرد غصے سے سیخ پا ہیں، ان کا چہرہ دنیا کے سامنے کھل کر آرہا ہے، ان کا بس نہیں چل رہا کہ کیسے عورتوں کی آواز دبائیں'۔

زرنش کبیر بھی پاکستانی وکیل ہیں انھوں نے ٹویٹ کیا کہ 'میں پاکستان سے می ٹو کے ٹویٹس کیوں نہیں دیکھ رہی؟ مجھے بچپن اور بلوغت دونوں کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور میں دیگر کئی عورتوں کو بھی جانتی ہوں جنھوں نے اس کا سامنا کیا۔

یہ تو چند ٹویٹس اور فیس بک سٹیٹس تھے جو پاکستان سے خواتین نے کیے تھے لیکن پاکستان کے پڑوسی ملک انڈیا سے تعلق رکھنے والی انورادھا سروج نے اپنے تفصیلی فیس بک سٹیٹس میں پانچ سال کی عمر سے لے کر 25 سال کی عمر تک خود کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات لکھے ہیں۔

وائس آف امیریکا سے تعلق رکھنے والی صحافی عائشہ تنظیم نے ٹویٹ کی ہے کہ ان سمیت، جن خواتین کو وہ جانتی ہیں انھیں زندگی میں کبھی نہ کبھی زبانی یا جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ می ٹو میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں نے بھی بحث میں حصہ لیا ہے۔ حمزہ حیدر وکیل ہیں انھوں نے کہا کہ وہ اس مہم میں کم از کم یہ حصہ تو ڈال سکتے ہیں کہ وہ متاثرہ خاتون کو اپنی خدمات مفت فراہم کریں۔

ایک شخص جو ایک کافی ہاؤس کے مالک ہیں۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ 'مجھے پاکستان کے دورے کے دوران غلط انداز میں چھوا گیا اور ہراساں کیا گیا لیکن فرق صرف اتنا ہے وہ شخص آخر میں اپنی ناک تڑوا بیٹھا'۔

ہیش ٹیگ می ٹو میں کئی خواتین اور مردوں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ ایسے بھی کئی لوگ ہیں جو اس مہم میں حصہ نہیں لے رہے لیکن انھیں زندگی میں کسی نا کسی مرحلے پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں