’انڈونیشیا میں قتل عام پر امریکہ خاموش تھا‘

انڈونیشیا تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بعض افشا ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں انڈونیشیا میں سیاسی بحران کے دوران امریکہ جانتا تھا کہ لوگوں کو ’ذبح کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے‘۔

سنہ 1965 اور 1966 کے درمیان فوجی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں فوج اور مقامی مسلمان ملیشیا کے درمیان جھڑپ کے دوران کم از کم پانچ لاکھ افراد مارے گئے تھے۔

یہ 20ویں صدی کا سب سے بد ترین قتل عام تھا، لیکن اس وقت امریکہ خاموش رہا۔

تاہم اب منظر عام پر آنے والی ان تازہ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ کو اس حوالے سے تمام تفصیلی معلومات حاصل تھیں۔

ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ ٹیلی گرامز میں امریکی اہلکار اسے ’قتل عام‘ اور ایک وقت میں تو ’بلاتفریق قتل‘ بھی قرار دے رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں انڈونیشیا کی فوج کی جانب سے کمیونسٹ پارٹی اور بائیں بازو کے گروہوں کو ’مکمل طور پر ختم‘ کرنے کے آپریشن کے بارے میں علم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایک سال کے دوران کم از کم 30 لاکھ افراد کو جان کھو دینے کا خطرہ تھا۔

یہ تشدد جو تقریباً 50 سال تک انڈونیشیا میں ایک بڑا موضوع رہا اور حتی کہ آج بھی انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تشدد کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب سنہ 1965 میں کمیونسٹ پارٹی کے ارکان پر چھ جرنیلوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا۔

یہ سرد جنگ کی انتہا تھی اور کمیونسٹوں، فوج اور اسلامی گروہوں کے درمیان اقتدار حاصل کرنے کی کوشش تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پانچ دہائیوں بعد امریکی ٹیلی گرامز کا مواد حیران کن ہے۔ 28 دسمبر 1965 میں مشرقی جاوا میں ایک امریکی سفارتخانے کے اہلکار کے مطابق : ’متاثرین کو مارنے سے قبل گنجان آباد علاقوں سے باہر لے جایا جاتا ہے اور ان کی لاشوں کو دریا میں پھینکنے کے بجائے جیسا کہ وہ اس سے قبل کرتے تھے دفنایا جا رہا ہے۔‘

ٹیلی گرام کہتا ہے ’کمیونسٹس کے شبہے میں پکڑے جانے والے قیدیوں کو بھی قتل کر دینے کے لیے عام شہریوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔‘

انڈونیشیا اور مشرقی تیمور دستاویزاتی منصوبے کے بانی اور ڈائریکٹر بریڈ سپمسن نے ان فائلوں کو ریلیز کرنے کا دباؤ ڈالا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ دستاویزات تفصیل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ کیسے امریکہ کو معلوم تھا کہ اتنے سارے لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ اس وقت امریکہ کا موقف خاموشی تھی۔‘

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کے محقق آدریز ہرسونو کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس وقت اس قتل کے حوالے سے عوامی سطح پر کوئی پیغام نہیں آیا تھا۔

اسی بارے میں