’تم پر میرا اعتماد سمندر کی طرح گہرا ہے اور میرا پیار بے تحاشا اور بھرپور‘

Fanned across a table, two hand-written cursive letters begin "Dear Alex–", while an envelope in the pile is clearly addressed to a Barack Obama in New York City. تصویر کے کاپی رائٹ Emory
Image caption یہ خطوط انھوں نے سنہ 1982 سے 1984 کے دوران مشیل اوباما سے ملاقات سے قبل لکھے

سابق امریکی صدر براک اوباما کے سابقہ گرل فرینڈ کو لکھے گئے غصے سے بھر پور خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانۂ طالبِ علمی میں نسل، سماجی حیثیت اور پیسے کی وجہ سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے باعث کس قدر تکلیف میں تھے۔

ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ خطوط براک اوباما نے الیگزینڈرا مک نیر کو لکھے تھے جن سے وہ کیلیفورنیا میں ملے تھے۔

صدر اوباما کے آنسو اور سوشل میڈیا

’رولرکوسٹر رومانس‘

مستقبل میں صدر بن جانے والے براک اوباما اپنی عملی زندگی کے ابتدائی دور کی مشکلات اور ملازمت سے کافی پریشان ہوئے۔

یہ خطوط سنہ 2014 ایمروئے یونیورسٹی کی روز لائبریری کی جانب سے حاصل کیے جانے کے بعد اب شائع کیے گئے ہیں۔

لائبریری کی ڈائریکٹر روزمیری میگی کا کہنا تھا ’یہ خطوط بہت خوبصورتی سے لکھے گئے ہیں اور یہ ایک نوجوان کی زندگی کے معنی اور شناخت کی تلاش کو ظاہر کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ خطوط ایسے ہی تمام مسائل کو ظاہر کرتے ہیں جو ہمارے طلبہ محسوس کرتے ہیں اور ہر جگہ طلبہ کو ان کا سامنا رہتا ہے۔‘

یہ خطوط انھوں نے سنہ 1982 سے 1984 کے دوران مشیل اوباما سے ملاقات سے قبل لکھے۔

اپنے اولین خط میں انھوں نے لکھا ’مجھے یقین ہے کہ تم جانتی ہو کہ میں تمہیں کتنا یاد کرتا ہوں اور تمہارے لیے میری پرواہ اس ہوا کی طرح وسیع ہے، تم پر میرا اعتماد سمندر کی طرح گہرا ہے اور میرا پیار بے تحاشا اور بھرپور ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیکن دوریوں کے باعث یہ رشتہ نہیں چل سکا

آخر میں لکھا تھا ’محبت ، براک‘

لیکن دوریوں کے باعث یہ رشتہ نہیں چل سکا۔ سنہ 1983 میں براک اوباما نے انہیں بتایا کہ ’میں اب بھی اکثر تمہارے بارے میں سوچتا ہوں لیکن میں احساسات کے بارے میں اب بھی متذبذب ہوں۔‘

’ایسا لگتا ہے کہ وہ سب چاہتے ہیں وہ ہم کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہی ہمیں باندھے ہوئے ہے، یہی ہمیں الگ رکھے ہوئے ہیں۔‘

ایک دوسرے خط میں نوجوان اوباما نے لکھا تھا کہ ان کا ایک دوست برسرِ روز گار ہونے والا ہے وہ اپنا خاندانی کاروبار سنبھالے گا۔

ان کے والد کا تعلق کینیا سے تھا وہ خود ہوائی میں پیدا ہوئے اور زندگی کا ابتدائی حصہ انڈونیشیا میں گذارا اس لیے وہ ذرا مختلف محسوس کرتے تھے۔

انھوں نے لکھا ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے رشک آتا ہے۔‘

’کوئی ایسی سماجی حیثیت، مقام یا روایت نہیں جو میرے حق میں ہو۔ ایسا لگتا ہے میرے لیے کوئی الگ ہی راستہ ہے۔‘

’اپنے احساسِ تنہائی کو دور کرنے کے لیے میری پاس ایک ہی حل ہے کہ میں تمام روایات، سماجی حیثیتوں کو خود میں ضم کر لوں اور انہیں اپنا لُوں اور ان کا ہو جاؤں۔‘

لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔

سنہ 1983 میں گریجویٹ ہونے کے بعد جب وہ انڈونیشیا لوٹے جہاں وہ بڑے ہوئے تھے، تو انہیں احساس ہوا کہ وہ اب وہاں کے نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا ’میں یہاں کی زبان اب اچھی طرح نہیں بول پاتا۔‘

’میرے ساتھ الجھن، اختلاف اور حقارت کا ملا جلا برتاؤ ہوا کیونکہ میں ایک امریکی تھا۔ میرا پیشہ اور میرا جہاز کا ٹکٹ میرے سیاہ فام ہونے پر حاوی آ گیا۔‘

پرانی سڑکیں، کچے گھر کھیتوں سے پرے چھوٹنے لگے۔ میری پرانے راستے اب میرے نہیں رہے تھے، مجھے ان تک رسائی نہیں رہی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ White House

نوجوانی میں حب الوطنی

بطور نوجوان براک اوباما جانتے تھے کہ انہیں سماجی منصوبوں پر کام کرنا ہے جنہیں بحیثیت صدر وہ مزید بہتر بنا سکیں گے، لیکن کئی دوسرے نوجوانوں کی طرح انہیں باعمل ہونا تھا۔

سنہ 1983 میں لکھے گئے ایک خط میں انھوں نے کہا ’کہ ’ایک ہفتے میرے پاس اپنے لکھائی کے نمونے اور کوائف بھجوانے کے لیے ڈاک کے بھی پیسے نہیں تھے، اس کے بعد ٹائپ رائٹر کرائے پر لینے کے لیے میرا ایک چیک باؤنس ہو گیا۔‘

’سماجی بہبود کے اداروں میں تنخواہیں بہت کم ہیں اس لیے مجھے ایک سال تک کوئی عمومی ملازمت کرنا ہو گی تاکہ اپنے آئندہ کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے میرے پاس کچھ وسائل ہوں۔‘

اشاعتی ادارے بزنس انٹرنیشنل کے ساتھ کام کرتے ہوئے انھوں نے خطوط میں لکھا کہ ہر کوئی انھیں تھپکی دیتا اور کام کی تعریف کرتا ہے۔

لیکن انہیں ڈر تھا کے کارپوریٹ ملازمت ان کے ’احساسات کو مدھم کر کے ان کے اقدار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گی۔‘

ان کے خطوط میں اشارہ ملتا تھا کہ وہ آگے چل کر کیا بنیں گے۔ انھوں نہ سنہ 1984 میں الیگزینڈرا کو خط میں لکھا کہ وہ اس بات پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ مزید پُر اثر ہو کر کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

’میرے تصورات اتنے شفاف نہیں ہیں جتنے سکول کے زمانے میں تھے لیکن یہ فوری عمل درآمد والے اور اہم ہیں کیونکہ اس طرح ان سے زیادہ فائدے مند ممکن ہیں۔ اب میں مشاہدے کم کرتا ہوں اور باعمل زیادہ ہوں۔‘

اسی بارے میں