’امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے نمٹنے کے لیے انڈیا سے تعلقات کو وسعت دے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو سامنے رکھتے ہوئے انڈیا سے تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق انڈیا 'سٹریٹیجک تعلقات' میں اتحادی ہے اور غیر جمہوری چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اس نوعیت کے نہیں ہو سکتے ہیں۔

٭ ’چین دنیا کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا‘

٭ ’امریکہ کی افغان پالیسی میں خونریزی کا پیغام ہے‘

واشنگٹن میں تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹیڈیز میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ 'امریکہ چین کے ساتھ بامقصد تعلقات چاہتا ہے لیکن چین کے ان چیلنجز کے سامنے خود کو محدود نہ کرے جہاں وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری میں خلل ڈالتا ہے۔'

انھوں نے بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ بعض اوقات بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین کو امید ہے کہ مستقبل میں وہ عالمی سطح پر زیادہ سرگرم کردار ادا کرے

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیے ہیں جب وہ آئندہ ہفتے انڈیا کے دورے پر جا رہے ہیں۔

انھوں نے جنوبی بحیرہ چین میں چین کی 'اشتعال انگیز' سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین براہ راست ان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے جن کے ساتھ امریکہ اور انڈیا کھڑے ہیں۔

وزیر خارجہ نے انڈیا سے کہا کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرے، جس میں انڈیا اور امریکہ کو اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے والے ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں چین سمیت دیگر ایشیائی ممالک کا دورہ کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں