مونیکا لیونسکی نے MeToo# لکھ کر کس تجربے کی بات کی

مونیکا لیونسکی، #MeToo تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مونیکا لیونسکی امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ رشتے کی وجہ سے سرخیوں میں آئیں تھیں۔

ان کے رشتے کی خبر باہر آنے کے بعد مونیکا کو بہت ذلت آمیز اور تکلیف دہ دور سے گزرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آج ایک بار پھر مونیکا نے خود کو ہراس کیے جانے کی بات دنیا کے سامنی رکھی ہے۔ وہ بھی خواتین کے ہراساں کیے جانے کے خلاف انٹرنیٹ پر چلنے والی مہم MeToo# ٹویٹ کر شامل ہو گئی ہیں۔

حالانکہ انہوں نے اپنے کسی تجربے کا نہ ذکر کیا اور نہ ہی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

مونیکا کے ساتھ افیئر کی بات سامنے آنے کے بعد امریکی صدر کو مواخذہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس دوران مونیکا وائٹ ہاؤس میں بطور انٹرن کام کر رہی تھیں۔ تب وہ صرف چوبیس برس کی تھیں۔

ان دونوں کے درمیان رشتے کی بات سنہ 1998 میں سامنے آئی تھی جس کے بعد لوگوں نے مونیکا کو ناشائستہ میلز بھیجیں۔ ان کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ اس واقعے نے انہیں جذباتی طور پر توڑ دیا تھا۔

ان کے تازہ ٹویٹ کے بعد بہت سے لوگوں نے مونیکا کی حمایت کی اور ان کی بہادری کی تعریف بھی کی ہے۔

جنسی ہراس کے الزامات پر آسکر اکیڈمی کا ہنگامی اجلاس

’والدین کو ایسے واقعات سے بچاؤ کے طریقے بتانے چاہییں‘

میری اینجیلا نے لکھا ہے کہ ‘مجھے افسوس ہے کہ آپ کو برسوں تک اس کا سامنا کرنا پڑا۔ اب یہ بہت پرانی بات ہو گئی ہے۔ اور لوگ آپ کو ایک عام انسان کی طرح دیکھتے ہیں۔ غلطیاں ہم سب سے ہوتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اصل میں کس شخص اور کس تجربے کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔

مونیکا لیونسکی اب آن لائن ہراس اور سائبر بولینگ کے متاثروں کے لیے کام کرتی ہیں۔

ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائنسٹین کا سیکس سکینڈل سامنے آنے کے بعد سے دنیا بھر میں خواتین MeToo# لکھ کر سوشل میڈیا پر اپنے تلخ تجربات شیئر کر رہی یں۔

اسی بارے میں