سپین کاتالونیہ کی خود مختاری کا عمل معطل کر دے گا

کاتالونیہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کاتالونیہ کے رہنماؤں کی جانب سے آزادی کا اعلان کرنے کی دھمکی کے بعد سپین کی حکومت سنیچر سے کاتالونیہ کو خود مختاری دینے کا عمل معطل کرنا شروع کرے گی۔

سپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 155 کو بحال کرنے کے لیے کابینہ کا اجلاس ہو گا تاکہ اس کے ذریعے کاتالونیہ کا نظامِ حکومت سنبھالا جا سکے۔

سپین کی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 155 کو بحال کرنے کے لیے کابینہ کا اجلاس منعقد کرے گی جس کے ساتھ کاتالونیہ کی حکومت کی قانونی حیثیت بحال ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

'کاتالونیہ کی آزادی کے اعلان کا کوئی اثر نہیں ہوگا'

'کاتالونیہ کی سپین سے آزادی کا اعلان دنوں کی بات ہے'

'کاتالونیہ نے ریاست بننے کا حق جیت لیا ہے'

سپین کی حکومت نے کاتالونیہ کی مقامی حکومت کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اور ترتیب کے ساتھ اقتصادی ڈھانچے اور ملک کی ہم آہنگی کو سنجیدہ نقصان پہنچایا ہے۔

'اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ سپین کی حکومت آئینی حکم نامے کو بحال کرنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکی کرےگی۔'

خیال رہے کہ کاتالونیہ سپین کا شمال مشرقی علاقہ ہے اور اس کی زبان اور ثقافت باقی ملک سے مختلف ہے۔ اس کی آبادی 75 لاکھ ہے۔ یہ باقی سپین کے مقابلے میں نسبتاً مالدار علاقہ ہے اور اسے کافی حد تک خود مختاری حاصل ہے تاہم سپین کے آئین کے مطابق یہ علیحدہ ملک نہیں ہے۔

سپین کے وزیراعظم ماریانو رخوئے نے کاتالونیہ کے رہنما کارلس پوئیمونٹ کو آزادی کے سوال پر ایک واضح جواب دینے کے لیے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے کا وقت دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ اس پر 'سنجیدگی سے عمل کریں۔'

انھوں نے بدھ کو پارلیمان میں کہا 'اس سوال کا جواب دینا مشکل نہیں ہے کہ کیا کاتالونیہ نے آزادی کا اعلان کیا ہے؟ کیونکہ اگر یہ ہے تو، حکومت اس پر کام کرنے کی پابند ہے اور اگر یہ نہیں ہے تو ہم یہاں بات کر سکتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں