کرکوک: عراق اور کرد افواج میں شدید جھڑپیں

عراق تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اطلاعات کے مطابق عراق کے شہر کرکوک کے شمال میں عراقی افواج اور کردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

یہ جھڑپیں عراقی فوج کی جانب سے متنازع علاقوں پر قبضہ کیے جانے کے کئی دنوں بعد ہوئی ہیں۔

جائے وقوع پر موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الٹن کوپری میں ہونے والی جھڑپوں میں راکٹ، گولہ باری اور مشین گن فائر کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

عراق تنازع: پیشمرگہ کو کرکوک چھوڑ دینے کی حکومتی مہلت ختم

عراقی کردستان کے ریفرینڈم میں اکثریت آزادی کے حق میں

خیال رہے کہ کرکوک صوبے میں یہ آخری ضلع ہے جو اب بھی پیشمرگہ جنگجوؤں کے زیرِ قبضہ ہے۔

عراق کی افواج نے رواں ہفتے اس علاقے کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا جس پر سنہ 2014 سے کردوں کا قبضہ تھا۔

عراقی فوج اور حکومت حامی شیعہ ملیشیا نے ایک کارروائی کے ذریعے کردوں کو سرکاری طور پر تسلیم شدہ خود مختار کردستان کے علاقے (کے آر آئی) میں واپس دھکیل دیا تھا۔

تیل سے مالا مال صوبے کرکوک پر عراق کی مرکزی حکومت اور کے آئی آر قبضے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے کرد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ریفرینڈم کے بعد فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

عراقی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق کاؤنٹر ٹیرازم اور وفاقی پولیس افواج کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا نے پر کارروائی کی۔

علاقے میں ایک چیک پوائنٹ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گالپن کا کہنا ہے ' اس کارروائی میں متعدد فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں نے حصہ لیا۔‘

عراقی فوج کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ دی وار میڈیا سیل کے مطابق حکومت نے الٹن کوپری کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں