برازیل: ’بچوں سے جنسی رغبت‘ کے الزام 108 افراد گرفتار

برازیل پولیس تصویر کے کاپی رائٹ MINISTERIO DA JUSTICA
Image caption برازیل کے تفتیش کاروں کو امریکہ نے مخصوص سافٹ ویئر فراہم کیا تھا جس کے ذریعے انھوں نے بچوں کے خلاف جنسی فعل کے مواد کا پتہ چلایا

برازیل کی پولیس نے کہا ہے کہ انھوں نے لاطینی امریکہ میں بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والوں کے خلاف آج تک کے سب سے بڑے آپریشن میں 108 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مشتبہ افراد کو برازیل کے دارالحکومت سمیت ملک کی 24 ریاستوں سے گرفتار کیا گيا ہے۔

وزیر انصاف ٹورکوٹو جارڈم نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں بچوں سے منسلک جنسی مواد کو کمپیوٹر اور موبائل پر شیئر کرنے والے گروہ کے افراد شامل ہیں۔

٭ واٹس ایپ پر’بچوں کی فحش تصاویر‘ پر گرفتاریاں

٭ 'یورپ بچوں سے متعلق جنسی مواد کا گڑھ‘

یہ پولیس آپریشن چھ ماہ کی تفتیش کے بعد عمل میں آیا ہے جس میں امریکہ اور یورپی ممالک کے امیگریشن کے حکام بھی شامل ہیں۔

تفتیش کاروں کو بچوں کے جنسی استحصال کے متعلق تقریباً ڈیڑھ لاکھ پریشان کن تصاویر ملی ہیں۔

ان مواد کو ایسی ویب سائٹس سے حاصل کیا گيا ہے جسے ’ڈارک ویب‘ کہا جاتا ہے اور جسے عام سرچ انجن ڈھونڈ نہیں پاتے ہیں۔

گرفتار کیے جانے والوں میں ریٹائرڈ پولیس اہلکار، سول سروینٹس اور فٹبال یوتھ کلبوں کے سربراہان شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AGENCIA BRASIL
Image caption اس آپریشن میں ایک ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار شامل رہے

وزیر انصاف جارڈم نے کہا کہ بچوں میں جنسی زیادتی یا جنسی طور پر رغبت رکھنے والے افراد ایسی تکنیک کا استعمال کر رہے تھے جس سے وہ پولیس کی تقتیش سے بچ سکیں۔

انھوں نے کہا: ’انھوں نے غیرقانونی اور مجرمانہ تصاویر ملک کے دوسرے حصے میں موجود کسی دوسرے کے کمپیوٹر پر محفوظ کر رکھی تھیں یہاں تک بیرون ملک بھی محفوظ کررکھی تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: 'عام طور پر جن کے کمپیوٹر پر یہ تصاویر سٹور تھیں انھیں اس بات کا علم نہیں تھا۔'

پہلے پہلے تفتیش کاروں نے مشتبہ بچوں سے جنسی زیادتی کے مواد شيئر کرنے والوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن جب انھوں نے درجنوں کمپیوٹر، موبائل فونز، سی ڈیز اور ہارڈ ڈرائیوز پکڑے تو انھیں پتہ چلا کہ مجرمانہ سرگرمی میں شامل گروہ انٹرنیٹ پر شیئر کرنے کے لیے ’پورن‘ یا فحش مواد تیار کر رہے ہیں۔

ان فائلز میں بچوں کے جنسی استحصال کی پریشان کن تصاویر تھیں۔ بعض بچوں اور نوعمروں نے تفتیش کاروں سے اپنے والدین یا رشتہ داروں کی شکایت بھی کی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ریکٹ برازیل میں آزادانہ طور پر چل رہا تھا یا پھر یہ بیرون ملک کسی کرمنل نٹورک سے بھی منسلک رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں