چین: تیسری سہ ماہی میں ترقی کی شرح %6.8

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین میں تین دہائیوں تک معاشی ترقی کی شرح سالانہ 10 فیصد رہی

چین میں جمعرات کو جاری کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور ستمبر کے درمیان ملک کی اقتصادی ترقی میں 6.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال کے دوسرے حصے کے مقابلہ میں معیشت میں مندی آئی ہے۔

اقتصادی ترقی کی شرح کا موازنہ پچھلے سال کی اسی سہ ماہی سے کیا جاتا ہے اور اس بار یہ شرح توقعات کے مطابق تھی۔

مجموعی قومی پیداوار کے تازہ اعداد و شمار بیجنگ کے 2017 کے لیے سالانہ ہدف 6.5 فیصد سے زیادہ ہیں۔

دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی کوشش ہے کہ قرضوں پر اور گھروں کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پایا جائے مگر اس کے نتیجے میں معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔

ان کوششوں کے نتیجے میں چین کے کچھ حصوں میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں مگر ترقی کی وجہ توقعات سے زیادہ کاروبار اور بینک کی طرف سے جاری قرضہ جات ہیں۔

یہ نتیجہ سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی جس میں ترقی کی شرح 6.9 فیصد رہی اُس کے بعد سامنے آیا ہے۔

کپیٹل ایکونومکس چائنا کے ماہر اقتصادیات جوکین ایونز پرچارڈ کہتے ہیں کہ 'آنے والے مہینوں میں غیر مدد گار مالیاتی پالیسی اور قرضوں میں کمی ترقی کی شرح میں کمی کا وجہ بنے گی۔'

ملک کے اہم رہنماؤں کی ملاقات

یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت شائع ہوئے ہیں جب چین کی کمیونسٹ پارٹی کانگریس کا احلاس ہو رہا ہے جو آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی اور معاشی سمت کا تعین کرتی ہے۔

صدر ژی ژن پنگ کہتے ہیں کہ ملک میں گہری معاشی اور مالیاتی اصلاحات لائی جائیں گی اور ملک کی مارکیٹوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مزید کھولا جائے گا۔ مگر غیرملکی ایگزیکیٹو اور ماہرین اصلاحات کی رفتار سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی صدر ژی ژن پنگ کمیونسٹ پارٹی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے۔

صدر ژی نے کانگریس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ 'چین کی معیشت تیز رفتار ترقی کے دور سے اب اعلی معیار کے ترقیاتی دور میں داخل ہو رہی ہے'

ملک بر آمدات پر انحصار کے بجائے مقامی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔

جہاں پچھلی تین دہائیوں میں چین کی اقتصادی ترقی سالانہ 10 فیصد تھی دنیا میں معاشی بحران کے نتیجے میں اس میں کمی واقع ہوئی ہے اور پچھلے سال یہ شرح 6.7 فیصد تھی۔

ملک کے سینٹرل بینک کے گورنر نے ہفتے کے آغاز میں کہا کہ چین کی معیشت اگلی دو سہ ماہیوں میں7 فیصد تک بڑھ سکتی ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا کہ بڑھتے ہوئے قرضوں پر قابو پانے کے لیے مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ترقی سے متعلق معلومات کے علاوہ ملک کی معاشی صحت کے بارے میں دیگر اہم اعداد و شمار بھی جمعرات کو شائع کیے گئے۔

چین کی فیکٹریوں کی مجموع پیداوار ستمبر میں پچھلے سال کی نسبت 6.6 فیصد بڑھی جو ماہرین کی امیدوں سے کہیں زیادہ ثابت ہوئی جبکہ معینہ مدت والی سرمایہ کاری میں صرف سال کے پہلے نو مہینوں میں صرف 7.5 فیصد اضافہ ہوا۔