کاتالونیہ نے سپین کی جانب سے براہ راست حکومت کا منصوبہ مسترد کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین کے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ آرٹیکل 155 کا اطلاق کیا جائے گا۔

کاتالونیہ کہ رہنما کارلیس پوگیمونٹ نے کہا ہے کہ کاتالونیہ میڈرڈ کی جانب سے خطے پر براہِ راست حکمرانی کے منصوبوں کو قبول نہیں کرے گا۔

انھوں نے اسے 1939 سے 1975 کے دوران جنرل فرانکو کی آمریت کے بعد کاتالونیہ کے اداروں پر بدترین حملہ قرار دیا۔

اس سے پہلے سپین کے وزیر اعظم نے کاتالونیہ کے حکمرانوں کو علیحدہ کر کے آزادی کے خواہشمند اس خطے پر مرکزی حکومت کی مکمل حاکمیت بحال کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

کاتالونیہ کے رہنما خطے کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپیل کی ہے اور سپین کے فیصلہ کو بغاوت قرار دیا ہے۔

ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں انھوں نے سپین کے وزیرِ اعظم کے اقدامات اور جنرل فرانکو کے اقدامات کا موازنہ کیا۔

سپین کے وزیرِ اعظم ماریانو رخوئے نے ہفتے کو کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اس سپین کے شمالی خطے میں جہاں آزادی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں وہاں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا لیکن انھوں نے اس علاقے کی پارلیمان کو توڑنے کا اعلان نہیں کیا۔

کابینہ کے اس فیصلے کو سپین کی سینیٹ میں آیندہ چند دنوں میں پیش کیا جائے گا۔

تین ہفتے قبل کاتالونیہ میں ایک سپین سے علیحدگی اختیار کرنے کے ایک متنازع ریفرنڈم کے بعد وزیر اعظم ماریانو راجوئے کی طرف سے سامنے آیا ہے

سپین کی سپریم کورٹ نے ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق ملک تقسیم نہیں ہوسکتا۔

کاتالان رہنما کارلیس پوئیمونٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے آزادی کی مہم کو ختم کرنے کی گزارشات کو نظر انداز کیا ہے۔

سپین کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہیں بچا سوائے اس کے کہ مرکزی حکومت کی حاکمیت کو خطے پر نافذ کردیا جائے۔ انہوں نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کاتالان حکومت کی سرگرمیاں 'قانون کی خلاف ورزی ہیں اور تصادم چاہتی ہیں۔'

یہ عمل سپین کے آئین کے آرٹیکل 155 کے تحت ہوگا جس کے مطابق کسی بحران کی صورت میں ملک کے نیم خودمختار حصوں پر مرکزی حکومت کو اپنی حکمرانی نافذ کرنے کا حق حاصل ہے۔

وزیر اعظم ماریانو رخوئے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سپین کی سینیٹ ایک ہفتے کے اندر اس پر ووٹ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ 'ہماری خواہش نہیں اور ہمارا ارادہ نہیں تھا' کہ اس آرٹیکل کا استعمال کریں۔

سپین کے قانون کے مطابق آرٹیکل 155 کے اطلاق کے بعد چھ مہینوں کے اندر انتخابات ہونا ضروری ہیں۔ مگر ملک کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ووٹ جلد ہی ڈالا جائے۔

حالات یہاں تک کیسے پہنچے؟

کاتالونیہ کی حکومت نے یکم اکتوبر کو آزادی پر ریفرینڈم کروایا تھا جس میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا خطے میں رہنے والے سپین سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں؟ ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 43 فیصد تھی جن میں سے 90 فیصد نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا۔ علیحدگی کی مخالفت کرنے والوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاتالونیہ میں آزادی کے ریفرنڈم نے ملک میں سیاسی بحران پیدا کردیا ہے

کاتالونیہ کے رہنما کارلیس پوئیمونٹ اور خطے کے دوسرے رہنماؤں نے سپین سے آزادی کے لیے جو دستاویز بنائی اُس پر دستخط کیے مگر اسے فوراً ہی معطل کر دیا تاکہ مذاکرات ہو سکیں۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کی جانب کارلیس پوئیمونٹ کواپنی پوزیشن واضع کرنے کے لیے دو بار مہلت دی جسے اُنہوں نے نظر انداز کر دیا۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں حکومت نے آرٹیکل 155 کے اطلاق کی دھمکی دی تھی۔

علیحدہ ہونے کی مہم کے پیچھے کیا وجوحات ہیں؟

کاتالونیہ سپین کا شمال مشرقی علاقہ ہے اور اس کی زبان اور ثقافت باقی ملک سے مختلف ہے۔ اس کی آبادی 75 لاکھ ہے۔ یہ باقی سپین کے مقابلے میں نسبتاً مالدار علاقہ ہے۔ علیحدگی پسند افراد کا کہنا ہے کہ حظے کا مرکز کی معیشت میں بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ علیحدگی کی مخالفت کرنے والوں کے مطابق کاتالونیہ سپین کے ساتھ رہ کر زیادہ مضبوط رہ سکتا ہے اور علیحدگی مجموعی طور پر ملک کے لیے بری ثابت ہوگی۔

کیا سپین کے اقدامات نقصان دہ ہوسکتے ہیں؟

جیمز بیڈوک، بی بی سی نیوز، مڈرڈ

بائیں بازو کی سی یو پی پارٹی کے مطابق وہ خطے پر لاگو کیے جانے والے کسی بھی انتخابات کی مخالفت کرے گی۔ دوسری علیحدگی کی حامی طاقتیں سے بھی یہی توقع ہے۔ مڈرڈ کی طرف سے اپنی حکمرانی کی کوشش پر لوگ سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔

کارلیس پوئیمونٹ نے آرٹیکل 155 کے اطلاق کی صورت میں باقاعدہ ریفرنڈم کروانے کی اپیل کی ہے۔ اگر اس پر عمل ہوتا ہے تو اُس صورت میں علیحدگی پسند قوتیں الیکشن کو ایک نئی جمہوریہ کی اسمبلی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے جو اس مہم کے لائحہ عمل کا اگلا مرحلہ ہے۔

اگر ساری سیاسی پارٹیاں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں تو انتخابات کو یقینًا آزادی کے حق میں ووٹ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر علیحدگی پسند جماعت کو اکثریت ملتی ہے تو اس صورت میں تنازع یقیناً جاری رہے گا۔