قطر بحران کے خاتمے کے لیے امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن کا دورۂ سعودی عرب

ریکس ٹلرسن، سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریکس ٹلرسن ریاض میں سعودی ہم منصب اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں

امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن سعودی عرب کے شاہ سلمان سے دارالحکومت ریاض میں ملاقات کر رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور ایران کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

ریکس ٹلرسن عراق اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اس اہم اجلاس میں بھی شرکت کریں گے جس میں مشترکہ تعاون کونسل کے قیام پر غور کیا جائے گا۔ اس کونسل کے بارے میں امید ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ برسوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد تعاون کی فضا قائم کرے گی۔

توقع ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں پر قطر کے بائیکاٹ کو ختم کرنے پر بھی زور دیں گے۔

* صدر ٹرمپ کا اپنے ہی وزیرِ خارجہ کو ذہانت کے ٹیسٹ کا چیلنج

* چین کا اثرو رسوخ، امریکہ انڈیا سے تعلقات بڑھائے گا

ٹرمپ کو دیے گئے 83 سعودی تحائف

خیال رہے کہ قطر پر سعودی عرب نے اسلامی شدت پسندوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس سے قطر انکار کرتا رہا ہے۔

سنیچر کے روز سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ساتھ عشائیے پر ملاقات کے بعد اتوار کو ریکس ٹلرسن کی ملاقات دیگر سعودی رہنماؤں سے طے ہے جس کے بعد وہ دوحہ روانہ ہو جائیں گے۔

سعودی عرب اور دوحہ کے دورے کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ ریکس ٹلرسن خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور کئی ماہ سے جاری بحران کے بارے میں بھی گفتگو کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریکس ٹلرسن قطر کا دورہ بھی کریں گے

سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر کے ساتھ تعلقات جون کے مہینے سے منقطع کیے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل جولائی کے مہینے میں خطے کے دورے کے دوران بھی ریکس ٹلرسن خلیجی بحران کو ختم کرنے کی ایک کوشش کر چکے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

حالیہ دورے پر سعودی عرب پہنچنے کے بعد بلوم برگ کو انٹر ویو دیتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ’مجھے بہت زیادہ امیدیں نہیں ہیں کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ معاملے کے حل کے لیے کچھ فریق آمادہ نہیں ہیں۔‘

واضح رہے کہ اس دورے کے دوراں امریکی سیکریٹری خارجہ نئی دہلی کا بھی دورہ کریں گے جہاں ان کے بقول وہ انڈیا کے ساتھ 100 سالہ ’سٹریٹیجک پارٹنرشپ‘ کا آغاز کریں گے۔

خبررسان ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن اسلام آباد میں بھی قیام کریں جس کے دوران وہ انڈیا کی بالادستی سے متعلق پاکستان کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اس دورے کے دوران توقع ہے کہ پاکستان پر شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔

اسی بارے میں