طوفان کے متاثرین کے لیے پانچ سابق امریکی صدور ایک ساتھ

سابق صدور سٹیج پر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تین سابق امریکی صدور کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی جبکہ دو کا ریپبلکن سے تھا

امریکہ کے پانچ سابق صدور ارما، ہاروی اور ماریا نامی طوفانوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کی مدد کے لیے منعقد کیے جانے والے کنسرٹ میں شریک ہوئے۔

سابق صدر براک اوباما، جارج ڈبلیو بش، جارج ایچ ڈبلیبو بش، بل کلنٹن، اور جمی کارٹر سنیچر کو ٹیکساس میں اکٹھے نظر آئے۔

One America Appeal کے نام سے چلائی جانے والی اس مہم میں حصہ لینے والے ان پانچ میں سے تین سابق امریکی صدور کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی جبکہ دو کا ریپبلکن سے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وائٹ ہاؤس کے بعد زندگی کیسے گزارتے ہیں؟

اوباما کا دورِ صدارت، تصاویر کی زبانی

وائٹ ہاؤس خاندانی کاروبار نہیں ہے: اوباما


اب تک اس مہم میں 31 ملین امریکی ڈالر اکھٹے کیے جا چکے ہیں۔

رواں برس اگست میں طوفان ہاروی نے جب ٹیکساس میں تباہی مچائی تھی تو اس وقت سیاسی رہنماؤں نے متاثرین کی مدد کے لیے اپیل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس کنسرٹ میں لیڈی گاگا نے بھی اپنے فن کا مظاہر کیا

بعد میں فلوریڈا، پورٹوریکو اور یو ایس ورجن آئی لینڈز بھی طوفان سے متاثر ہوئے۔

کنسرٹ میں پہلے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ ’بطور سابق صدور ہم اپنے امریکی ساتھیوں کی بحالی کے لیے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

صدر اوباما کے آنسو اور سوشل میڈیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا آئی کیو کتنا ہے؟

ٹونی بلیئر نے جارج بش کو کیا لکھا؟


اس موقع پر جارج ڈبلیو بش کا کہنا تھا ’یہاں لوگ تکلیف میں ہیں لیکن جیسا کہ ٹیکساس کے ایک مکین نے کہا ہے کہ ہمیں ٹیکساس میں پانی کی نسبت محبت زیادہ ملی ہے‘۔

پانچوں سابق امریکی صدور کنسرٹ کے آغاز سے قبل اس وقت سٹیج پر اکٹھے نظر آئے جب ملک کا قومی ترانہ گایا جا رہا تھا۔

کنسرٹ کا آغاز لی گرین ووڈ اور لیڈی گاگا نے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قومی ترانے کے دوران پانچوں صدور کی لی گئی ایک تصویر

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کنسرٹ میں شریک نہیں ہوئے تاہم اس کے آغاز سے پہلے انھوں نے ایک پیغام کے ذریعے سابق صدور کی اس کوشش کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

براک اوباما اور جارج ڈبلیو بش نے گذشتہ ماہ اپنی تقاریر میں نام لیے بغیر صدر ٹرمپ پر تنقید کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں