روس: کیا 35 برس کی کسینیا سوبچک روسی صدر پوتن کا مقابلہ کریں گی؟

کسینیا سبچک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسینیا سبچک 2007 میں کانز فلم فیسٹیول کی تقریب میں

روس کی ’پیرس ہلٹن‘ کون ہیں اور وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف صدارتی انتخاب میں کیوں کھڑی ہو رہی ہیں؟

روس کی مشہور ٹی وی پریزینٹر کسینیا سوبچک نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2018 میں روس کے صدارتی انتخابات میں پوتن کے خلاف حصہ لیں گی۔ لیکن روس کی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ڈراما ہے جس کا مقصد انتخابات کو قابل قبول بنانے کی ایک کوشش ہے اور حزب اختلاف کے رہنما ایلیکسی نوالنی کی مہم کو نقصان پہنچانا ہے۔

روس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت ایلیکسی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دے گی۔

کسینیا سوبچک کون ہیں اور کیا وہ واقعی پوتن کی مخالف ہیں؟

35 سالہ کسینیا ایک کامیاب شخصیت ہیں جو شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک آٹھ ماہ کا بیٹا ہے۔

انھوں نے 18 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ 2018 کے انتخابات میں حصہ لیں گی۔ وہ اس وقت میگزین 'لوفیسیئل' کی ایڈیٹر ان چیف ہیں، ٹی وی چینل 'رین' میں پریزینٹر ہیں، کالم نگار ہیں۔

امریکی جریدے فوربز کے مطابق کسینیا 21 لاکھ ڈالر سالانہ کماتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

روس اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی قربتیں

پوتن کے ’پراسرار‘ چیف آف سٹاف

محب وطن روسیوں کے لیے پوتن کیفے


تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسینیا حزب اختلاف کے رہنما کے ہمراہ

لیکن وہ روس میں اس حوالے سے مشہور نہیں ہیں۔

سنہ 2000 کے آغاز پر کسینیا پارٹیوں اور امیر مردوں کے ساتھ دوستیوں کے لیے مشہور تھیں۔ ان کو چیچن کاروباری شخصیت اور یورینیم کا کاروبار کرنے والے شخص کے ہمراہ دیکھا گیا۔

2004 میں انھوں نے 'ڈوم ٹو' (ہوم ٹو) نامی ریئلٹی شو کی میزبانی کرنی شروع کی۔ اس شو میں نوجوان محبت، رشتے اور سیکس پر بات کرتے تھے۔

ڈوم ٹو روسی ٹی وی پر سب سے مشہور اور سب سے لمبے عرصے تک چلنے والا پروگرام تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 فیصد روسی کسینا کو جانتے ہیں۔

کسینیا کو 'روسی پیرس ہلٹن' کہا جاتا تھا۔ انھوں نے اپنی مسحور کن زندگی پر ایک شو بھی بنایا جس کا نام 'چاکلیٹ کوٹڈ بلونڈ' (Chocolate-coated Blonde) تھا۔ اس شو میں کسینیا کو پارٹیوں میں شرکت کرتے ہوئے اور ایک بیوٹی سیلون میں برہنہ بھاگتے دکھایا گیا۔

کسینیا سیاست میں دلچسپی کیوں لینے لگیں؟

2011 میں کسینیا سوبچک پوتن مخالف ریلی میں گئیں اور بلند آواز میں کہا 'میں کسینیا سوبچک ہوں اور میرے پاس کچھ کھونے کے لیے ہے۔'

کیسنیا کبھی بھی عام طالب علم نہیں تھیں۔ وہ اناتولی سوبچک کی بیٹی ہیں جو سینٹ پیٹرزبرگ کے میئر تھے اور اُس وقت پوتن کے افسر تھے۔

پوتن کے بہت دوست تھے لیکن کسینیا سوبچک ان کے لیے بہت خاص تھیں۔

پوتن نے کسینا کو گود میں کھلایا ہوا ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ پوتن کسینا کے گاڈ فادر ہیں۔ لیکن اس بات کی تردید کسینیا خود کر چکی ہیں۔

کسینیا کے والد اناتولی کے انتقال کے بعد بھی پوتن نے سبچک خاندان کا خیال رکھا۔ کسینیا کی والدہ اب بھی کونسل کی ممبر ہیں۔

2011 کے مظاہرے کے بعد سے کسینیا نے سیاست پر بات کرنی شروع کی۔ وہ متحدہ اپوزیشن کی ریلیوں میں حصہ لینے لگیں۔

کسینیا اب سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے انٹرویوز کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی جریدے فوربز کے مطابق کسینیا 21 لاکھ ڈالر سالانہ کماتی ہیں

ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے پوتن سے چیچنیا کے متنازع رہنما رمضان قدیروف کے بارے میں سوال کیا۔ پوتن نے مذاق میں کہا 'اس کو کس نے اندر آنے دیا ہے‘۔

حال ہی میں صدر پوتن نے علیحدگی میں کسینیا سے ملاقات کی اور انتخابات کے حوالے سے بات کی۔

ذرائع نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کسینیا کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا خیال کریملن کا ہے لیکن کریملن اور کسینا دونوں ہی نے اس کی تردید کی ہے۔

کسینیا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے نے ان کے دوستوں کو حیران کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں