ایرانی اور عراقی شیعوں کی وجہ سے ہی بغداد اور دمشق محفوظ ہیں: جواد ظریف

ایران، جواد ظریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جواد ظریف نے ٹوئٹر پیغام میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے 'شرمناک' قرار دیا جو 'پیٹروڈالرز' کے دباؤ آکر بنائی گئی

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ایرانی اور عراقی شیعوں نے قربانیاں نہیں دی ہوتیں تو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بغداد اور دمشق پر حکومت کر رہی ہوتی۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ ایران کے وہ جنگجو جو عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں، انہیں اب واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ جنگ ختم ہونے کو ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں بھی سوال کیا کہ’وہ کون سا ملک ہے جہاں دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنے گھروں کو بچانے کے لیے کھڑے عراقی واپس جائیں؟

جواد ظریف نے اسی ٹوئٹر پیغام میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے 'شرمناک' قرار دیا جو 'پیٹروڈالرز' کے دباؤ آ کر بنائی گئی ہے۔

* داعش سے چھٹکارا تو شیعہ ملیشیا کا خوف

* حکومت نواز عراقی ملیشیا پر قیدیوں کے قتل کا الزام

امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے انڈیا جانے سے قبل سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خلیجی ممالک پر ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے امریکہ کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے.

سعودی عرب میں امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ’ایران کے جنگجوؤں کو عراق سے واپس چلے جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، دوسرے غیر ملکی جنگی بھی جو عراق میں موجود ہیں واپس جانا چاہیے، تاکہ عراقی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرسکیں، جو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروایا گیا ہے۔ غیر ملکی جنگجو واپس جائیں گے تو ہی عراقی وہاں رہائش پذیر ہوں گے۔‘

ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ چاہتے ہیں کہ عراقی شیعہ ملیشیا یا تو عراقی فوج میں شامل ہو جائیں یا اپنے ہتھیار ڈال دیں اور ان کے ایرانی حامی ملک سے چلے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption شہزادہ محمد بن سلمان سے مذاکرات کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب اور قطر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے، ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ’وزیر اعظم حیدر العبادی نے اپنے ملک اور فوجی کارروائیوں پر مکمل کنٹرول کیا ہے۔ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو جانتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ کرد جنگجوؤں سے آئین کے مطابق طرح نمٹا جائے گا۔‘

* عراق کی بس یہی کہانی ہے

* موصل: ’دولت اسلامیہ‘ کا خودکش بمباروں کا استعمال

سعودی عرب میں یہ بیانات دینے کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ نے قطر کے دارالحکومت دوحا پہنچے۔

اتوار کو شہزادہ محمد بن سلمان سے مذاکرات کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب اور قطر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ چاہتے ہیں کہ عراقی شیعہ ملیشیا یا تو عراقی فوج میں شامل ہو جائیں یا اپنے ہتھیار ڈال دیں

سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر کے ساتھ تعلقات جون کے مہینے سے منقطع کیے ہوئے ہیں اور قطر اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں گذشتہ پانچ ماہ سے کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

اس سے قبل جولائی کے مہینے میں خطے کے دورے کے دوران بھی ریکس ٹلرسن خلیجی بحران کو ختم کرنے کی ایک کوشش کر چکے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

واضح رہے کہ اس دورے کے دوراں امریکی سیکریٹری خارجہ نئی دہلی کا بھی دورہ کریں گے جہاں ان کے بقول وہ انڈیا کے ساتھ 100 سالہ 'سٹریٹیجک پارٹنرشپ' کا آغاز کریں گے۔

خبررسان ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن اسلام آباد میں بھی قیام کریں جس کے دوران وہ انڈیا کی بالادستی سے متعلق پاکستان کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اس دورے کے دوران توقع ہے کہ پاکستان پر شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں