جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کا شمالی کوریا سے ’سختی کے ساتھ نمٹنے‘ کا عہد

شنزو آبے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شنزو آبے نے ستمبر میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا

جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے اتوار کو منعقدہ انتخابات کے ایگزٹ پول نتائج میں جیت کے واضح اشارے ملنے کے بعد شمالی کوریا سے 'سختی کے ساتھ نمٹنے' کا وعدہ کیا ہے۔

شنزو آبے نے کہا ہے کہ انھوں نے ملک کو درپیش ’متعدد بحرانوں‘ کے پیش نظر ایک سال قبل ہی انتخابات اس لیے کروائے کیونکہ وہ اپنے اختیارات میں اضافہ چاہتے تھے۔

ان بحران میں سے ایک پیانگ یانگ کی جانب سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔

٭ جاپان انتخابات: حکمراں اتحاد ’یقینی کامیابی‘ کے راستے پر

٭ شمالی کوریا کی بحرالکاہل میں مزید کارروائیوں کی ’دھمکی‘

ابتدائی ایگزٹ پول سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اور انھیں دو تہائی ’سے زیادہ اکثریت‘ حاصل ہو رہی ہے۔

یہ ان کے ارادوں کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے صلح جو آئین میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ یہ آئین امریکی قابضوں نے سنہ 1947 میں بنایا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 9 میں جنگ سے مکمل کنارہ کشی کی بات کہی گئی ہے۔

جاپان نے ابھی تک آئین کی اس دفعہ کا پاس رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی فوج صرف دفاعی مقصد کے لیے ہے لیکن وزیراعظم شنزو آبے نے بہت پہلے واضح کردیا تھا کہ وہ اس دفعہ کو بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس کام کے لیے ’زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض ووٹروں نے بتایا کہ ان کے پاس شنزو آبے کا متبادل نہیں تھا

ایگزٹ پول کے بعد سرکاری میڈیا این ایچ کے سے بات کرتے ہوئے شنزو آبے نے کہا: ’جیسا کہ ہم نے انتخاب کے دوران وعدہ کیا ہے ہمارا فوری کام شمالی کوریا سے سختی کے ساتھ نمٹنا ہے۔

’اس کے لیے مضبوط سفارتکاری کی ضرورت ہوگی۔‘

خیال رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران شمالی کوریا نے جاپان کے شمال ترین جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے دو میزائل داغے تھے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق شنزو آبے کی سربراہی والے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے اتحاد کو 312 سیٹیں مل رہی ہیں۔

انتخاب میں کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ سال ستمبر میں جب پارٹی کا انتخاب ہوگا تو شنزو آبے کو ایل ڈی پی کا تیسری بار مزید تین سال کے لیے رہنما بنایا جانا یقینی ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ وہ جاپان کی تاریخ میں سب سے زیادہ دنوں تک وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والے شخص بن جائيں گے۔ وہ پہلی بار سنہ 2012 میں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں