سینٹ پیٹرز برگ کا بریڈ میوزیم

سینٹ پیٹرس برگ بریڈ میوزیم تصویر کے کاپی رائٹ muzei-xleb.ru/
Image caption یہ 19 ویں اور 20 ویں صدی کے کانفیکشنری کے نمونے ہیں

سینٹ پیٹرز برگ دارالحکومت ماسکو کے بعد روس کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ ایک زمانے میں پیٹروگراڈ کے نام سے جانا جاتا تھا پھر اسے لینن گراڈ کے نام سے جانا گیا لیکن اب پھر سے یہ سینٹ پیٹرز برگ کہلاتا ہے۔

نیوا ندی کے گرد آباد یہ شہر کسی پرستان کے نمونے سے کم نہیں۔ سورج کی آخری کرن کے ساتھ ندی کے چاروں طرف نور کے فوارے دلکش نظارے کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ روشنی سے جگمگاتے قمقمے اور عالیشان عمارتوں کا عکس سیاحوں کو یہاں باربار آنے کی دعوت دیتا ہے۔

المختصر سینٹ پیٹرز برگ ایک بے حد خوبصورت اور حسین شہر ہے۔

٭ ’آج کی رات یہ لگتا ہے پری آئے گی‘

٭ ریگستانی نخلستان زین آباد

یہ شہر خوبصورت محلات، میوزیم، گرجا گھروں کی آماجگاہ بھی ہے۔ دنیا کے ہر گوشے سے لوگ پیٹرزبرگ کی خوبصورتی کو سراہنے اور اس کے میوزیم دیکھنے یہاں آتے ہیں اور شہر کی رونق کی تسبیح پڑھتے اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں واقع لاتعداد عجائب گھروں میں ایک چھوٹا سا انوکھا عجائب گھر ہے جو 'بریڈ میوزیم کہلاتا ہے۔ سنہ 1988 میں اس میوزیم کا افتتاح ہوا تھا اور سنہ 1993 میں اسے روس کا ملی میوزیم قرار دیا گيا۔

جس طرح روٹی ہندو پاک کی زندگی کا اہم حصہ ہے اسی طرح بریڈ روس کے لوگوں کی اصل غذا ہے اور اس میوزیم کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ روسی زندگی بریڈ کے بغیر ادھوری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ muzei-xleb.ru

صبح ہو یا شام بریڈ کسی نہ کسی صورت ان کی روز مرہ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

یوں تو دنیا کے ہر ملک کا روٹی پر انحصار ہے اور ہر تہذیب پر اس کا گہرا اثر ہے، شاعروں نے اس کے وجود پر نظمیں کہیں ہیں تو نثر نگاروں نے نثر میں اس کے قصیدے پیش کیے ہیں۔

اس انوکھے میوزیم میں بریڈ کے 1400 سے زیادہ نمونے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ یہ بریڈ کی ابتدا اور وقت کے ساتھ اس میں رونما ہونے والے تغیرات کی کہانی بیان کرتے ہیں جو نہ صرف دلچسپ بلکہ معلوماتی بھی ہیں۔

چونکہ بیشتر معلوماتی کارڈ روسی زبان میں ہیں اس لیے انگریزی سمجھنے اور بولنے والے گائیڈ کا ساتھ بے حد ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ muzei-xleb.ru
Image caption میوزیم میں قسم قسم کے بیکری کے سامان بنانے کے آلے اور ظروف بھی رکھے ہیں

پرانے وقتوں کی ایک بیکری کا نمونہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس میں بیکری بنانے کے تمام لوازمات، عہد قدیم کی بریڈ کی دکانیں، اشتہارات، تصویریں، قلمی نسخے اور بریڈ بنانے کی تراکیب شامل ہیں۔

میوزیم کئی کمروں پر مشتمل ہے اور ہر کمرہ بریڈ بنانے کی صنعت بیان کرتا ہے۔ 19 ویں اور 20 ویں صدی کے کیک اور پیسٹری کے نمونے کاریگروں کی ہنرمندی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔

ساتھ ہی میوزیم کی نمائش عصر حاضر کے لوگوں کو اس وقت کی یاددہانی کرواتی ہے جب جنگ عظیم دوئم کے دوران یہ شہر مشکل مراحل سے دوچار تھا۔

محاصرے کے دوران لوگ ہزار ہا مشکلات سے دوچار تھے۔ کھانے کے حصول کے لیے راشن کی دکانوں پر لمبی لمبی قطاریں روس کی زندگی کو مشکل بنا رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بریڈ روس کے علاوہ بیشتر ممالک میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں

شیشے کے شوکیس میں موجود آدھ پاؤ یعنی 125 گرام کا ایک چھوٹے سائز کا بریڈ اس دور کی کہانی دہرا رہا ہے جب یہ روس کے ہر خاندان کی روزانہ کی خوراک تھی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زندگی کس قدر مجبور و لاچار تھی۔

بریڈ بنانے کی ترکیب ایک ٹرسٹ سے آیا کرتی تھی گویا بریڈ بنانے کی آزادی ایک عام شہری کا نصیب نہیں تھی۔

الغرض میوزیم نہ صرف تفریحی بلکہ معلوماتی بھی ہے لیکن افسوس کہ سینٹ پیٹرز برگ آنے والے سیاح کی دلچسپی کا باعث نہیں ہے۔ اس لیے بیشتر سیاح اس کے نام سے ناواقف اور اس کی زیارت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں