میرا کام ان برے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا: ایف بی آئی کے مسلمان ایجنٹ کی کہانی

النوری
Image caption ایف بی آئی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ النوری کی شناخت خفیہ رہے (فائل فوٹو)

ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے اپنے محکمے کی جانب سے خفیہ طور پر اسلامی شدت پسند تنظیموں کے لیے کام کرنے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

اس اہلکار کے مختلف ناموں میں سے ایک تامر النوری ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا اعتماد حاصل کرتے تھے۔

انھوں نے چار سال قبل نیویارک اور ٹورانٹو کے درمیان چلنے والی ریل پر حملوں کا منصوبہ ناکام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایف بی آئی کی مترجم کی شدت پسند سے شادی

’امریکہ کے دولتِ اسلامیہ کی مدد کرنے کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے‘

امریکہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے کردوں کو اسلحہ دے گا


انھوں نے ایک کتاب شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی بطور ایک مسلمان اہلکار ان کے کام کو سمجھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا 'درحقیقت یہ جہادی، یہ انتہا پسند، بھٹکی ہوئی روحیں ہیں۔ وہ نفرت اور برائی کو پکڑ لیتے ہیں جس سے انھیں مقصد ملتا ہے۔

'میں مسلمان ہوں اور ساتھ ہی امریکی بھی، اور میں اس پر شدید وحشت زدہ ہوں کہ یہ جانور میرے ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی میرے مذہب کی توہین بھی کر رہے ہیں‘۔

'اتفاقی ملاقات'

النوری کے والدین نے مصر سے امریکہ ہجرت کی تھی۔ وہ اس سے پہلے نیویارک پولیس میں ملازم تھے جہاں ان کا کام منشیات کا دھندا کرنے والے گروہوں کا سراغ لگانا تھا۔

بعد میں ایف بی آئی نے ان کی خدمات حاصل کر لیں، کیوں کہ وہاں عربی بولنے والوں کی سخت قلت تھی۔

ان کے ایک کامیاب خفیہ آپریشن میں نیویارک سے ٹورانٹو چلنے والی ٹرین پر حملے کو روکنا شامل تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا جا سکے۔

تیونس سے تعلق رکھنے والے شہاب عیسیٰ غایر اس منصوبے کے سرغنہ تھے۔ ایف بی آئی نے ان کی اور النوری کی 'اتفاقی ملاقات' کا اہتمام کیا۔

بعد میں عیسیٰ غایر نے انھیں اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے منتخب کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PENGUIN
Image caption النوری کی کتاب کی اشاعت سے پہلے ایف بی آئی نے اس کا جائزہ لیا ہے جو 23 اکتوبر کو شائع ہو رہی ہے

انھوں نے خود کو ایک ایسا مالدار عرب نژاد امریکی ظاہر کیا جس کی امریکہ سے خاص دشمنی تھی۔

'جب آپ کسی نظریاتی انتہا پسند کے ساتھ دنیا بھر کے سفر پر دن اور ہفتے گزارتے ہیں تو آپ کا اصل رنگ سامنے آنے لگتا ہے، خاص طور پر جب آپ تھکے ہوئے ہوتے ہیں‘۔

انسانیت کی تلاش

النوری نے بتایا کہ 'شدت پسندوں کے ساتھ ان کے بااعتماد ساتھی اور قریبی دوست کی حیثیت سے گزارے گئے طویل ہفتے سب سے مشکل تھے۔ میرا کام ان برے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا اور ہم جس سفاکی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے وہ قابل نفرت تھا۔

'مجھے اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دینے اور اسے قابلِ یقین بنانے کے لیے ان کی ذات کے اندر موجود انسانیت کو تلاش کرنا تھا۔۔۔ کہ وہ اپنی ماں سے کتنے اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں، یا وہ اپنے بہن بھائیوں کا کیسے خیال رکھتے ہیں۔'

النوری نے ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس کو بتایا کہ عیسیٰ غایر نے منصوبہ بنایا تھا کہ ریل پر حملہ کرنے کے فوراً بعد سالِ نو کی تقریبات کے موقعے پر نیویارک میں ٹائمز سکوئر پر حملہ کیا جائے گا۔

النوری اور عیسیٰ غایر مل کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر گئے جہاں عیسیٰ غایر نے کہا کہ امریکہ کو 'ایک اور نائن الیون کی ضرورت ہے۔'

لیکن ان کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ عیسیٰ غایر کو ان کے ایک ساتھی سمیت 2013 میں گرفتار کر لیا گیا اور انھیں النوری کی تحقیقات کے نتیجے میں 2015 میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

غداری کا الزام

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کہتے ہیں کہ النوری کی کہانی خفیہ طور پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تاریک اور خطرناک دنیا پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالتی ہے۔

خفیہ اہلکار کے کام کی نوعیت دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہے، تاہم النوری کہتے ہیں کہ غدار کا الزام وہ فخر سے قبول کرتے ہیں۔

'یہ غدار، یہ کٹر انتہا پسند وہ ہیں جو میرے مذہب کا نام بدنام کر رہے ہیں۔ مجھے محبِ وطن ہونے پر فخر ہے، مجھے ایک ایسا امریکی مسلمان ہونے پر فخر ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں