عراق نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو ختم کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا

عراقی وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عراق اور خطے کے لیے امید کا سبب ہے۔

عراقی وزیراعظم نے ملیشیا کے دفاع کے حق میں یہ بیان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے اس بیان کے بعد دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے وہ جنگجو جو عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں، انہیں اب واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ جنگ ختم ہونے کو ہے۔

* داعش سے چھٹکارا تو شیعہ ملیشیا کا خوف

* حکومت نواز عراقی ملیشیا پر قیدیوں کے قتل کا الزام

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پیر کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے بعد عراق پہنچے جہاں بغداد میں عراقی وزیراعظم سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم حیدر العبادی نے بات چیت میں کہا کہ 'پیرا ملٹریز ایرانی پراکسیز نہیں، یہ عراقی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کیونکہ یہ ملک اور خطے کے لیے امید کا سبب ہوں گے۔'

'جنگجوؤں نے اپنے ملک کا دفاع کیا اور دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے خود کو قربان کیا۔'

خیال رہے کہ سعودی عرب میں امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ 'ایران کے جنگجوؤں کو عراق سے واپس چلے جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، دوسرے غیر ملکی جنگی بھی جو عراق میں موجود ہیں واپس جانا چاہیے، تاکہ عراقی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرسکیں، جو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروایا گیا ہے۔ غیر ملکی جنگجو واپس جائیں گے تو ہی عراقی وہاں رہائش پذیر ہوں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption سعودی عرب کے دوران کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ عراقی شیعہ ملیشیا یا تو عراقی فوج میں شامل ہو جائیں یا اپنے ہتھیار ڈال دیں

امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خلیجی ممالک پر ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے امریکہ کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’ایرانی اور عراقی شیعوں کی وجہ سے بغداد اور دمشق محفوظ‘

عراق کی بس یہی کہانی ہے

ایرانی یرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کے بیان کے جواب میں کہا تھا کہ اگر ایرانی اور عراقی شیعوں نے قربانیاں نہیں دی ہوتیں تو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بغداد اور دمشق پر حکومت کر رہی ہوتی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں بھی سوال کیا کہ'وہ کون سا ملک ہے جہاں دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنے گھروں کو بچانے کے لیے کھڑے عراقی واپس جائیں؟

اسی بارے میں