صدر شی جن پنگ کے نظریات آئین کا حصہ، چیئرمین ماؤ کی صف میں شامل

شی جن پنگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پانچ سالہ کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ ووٹ کے ذریعے 'شی جن پنگ کی سوچ' کو آئین کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے صدر شی جن پنگ کے نظریات کو آئین کا حصہ بنانے کے حق میں ووٹ دے کے انھیں کمیونسٹ چین کے بانی ماؤزے تنگ کی صف میں شامل کر دیا ہے۔

صدر شی 2012 میں چین کے سربراہ بنے اور وہ تب سے اب تک اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔

پانچ سالہ کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ ووٹ کے ذریعے ’شی جن پنگ کی سوچ‘ کو آئین کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

شی جن پنگ، غار سے ایوانِ صدر تک

’چین دنیا کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا‘

کیا چین کا عالمی قد کاٹھ بڑھ رہا ہے؟

چیئرمین ماؤ کا قدِ آدم مجمسہ

19ویں کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے اس اجلاس میں 2000 سے زیادہ اراکین نے شرکت اور اس کی بیشتر کارروائی منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔ یہ ملک کی اہم ترین سیاسی میٹنگ ہوتی ہے۔

اس اجلاس کا آغاز گذشتہ ہفتے صدر شی کی تین گھنٹے طویل تقریر سے ہوا جہاں انھوں نے اپنے فلسفے ’سوشلزم بمع چینی عناصر‘ کو متعارف کروایا۔

ریاستی میڈیا اور اعلیٰ چینی حکام نے فوراً اسے ’شی جن پنگ کے نظریات‘ کہہ کر پکارنا شروع کر دیا جو کہ اس بات کا عندیہ ہے کہ صدر شی نے پارٹی پر اپنی گرفت انتہائی مضبوط کر لی ہے۔

بی بی سی کی چائنا ایڈیٹر کیری گریسی کا کہنا ہے کہ صدر شی کے فلسفے کو آئین کا حصہ بنانے سے اب ان کے دشمن پارٹی کے اقتدار کو خطرہ لاحق کیے بغیر ان کے اقتدار کو چیلنج نہیں کر سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سابق چینی رہنماؤں کے خیالات کو بھی آئین کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ تاہم ماؤزے تنگ کے بعد صدر شی وہ پہلے رہنما ہے جن کے فلسفے کو ایک ’سوچ‘ کا درجہ دیا گیا ہے جو کہ نظریاتی درجہ بندی میں سب سے اوپر تصور کی جاتی ہے۔

اس سے قبل صرف ماؤزے تنگ اور ڈنگ شاؤ پنگ کے نام ان کے نظریات سے منسلک کیے جاتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں شاید ہی ایسا کوئی رہنما ہو جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے زندگی کا کچھ حصہ غار میں گزارا ہو اور ایک کسان کی طرح کھیتوں میں کام کیا ہو۔

پچاس برس قبل چین میں ثقافتی انقلاب کی افراتفری کے دوران 15 برس کے شی جن پنگ نے ایک سخت دیہی زندگی کا آغاز کیا۔

وہ علاقہ جہاں شی جن پنگ نے کھیتی باڑی کی اس وقت خانہ جنگی کے دوران چینی کمیونسٹوں کا گڑھ تھا۔

شی جن پنگ کے اپنے تجربات کو آج مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور چین میں دیہی علاقے انتہائی تیز رفتاری سے شہروں میں تبدیل ہو رہے ہیں جبکہ لیانگچاخر نامی وہ گاؤں جہاں شی جن پنگ نے وقت گزارا اب کمیونسٹ پارٹی کے عقیدت مندوں کے لیے ایک مقدس جگہ بن گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں