ہاکنگ کے تھیسِس کی آن لائن اشاعت، یونیورسٹی کی سائٹ کریش کر گئی

اس پر سٹیبن ہاکنگ کی اپنے ہاتھ کی لکھائئ دیکھی جا سکتی ہے تصویر کے کاپی رائٹ Cambridge University/Stephen Hawking
Image caption اس پر سٹیبن ہاکنگ کی اپنے ہاتھ کی لکھائئ دیکھی جا سکتی ہے

عالمی شہرت یافتہ سائنسدان پروفیسر سٹیون ہاکنِگ کے پی ایچ ڈی تھیسِس کی آن لائن اشاعت کے کچھ ہی دیر بعد اس کی مقبولیت کی وجہ سے کیمبرج یونیورسٹی کی ویب سائٹ کریش کر گئی۔

تھیسس کی اشاعت کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر 60 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس سائٹ کا رُخ کیا جس کے نتیجے میں ویب سائٹ کریش کر گئی۔

یہ بھی پڑھیے

'سوچنے والی مشینیں انسانی بقا کے لیے خطرہ'

'مصنوعی ذہانت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی'

75 سالہ سٹیون ہاکنگ کا تھیسِس 'پراپرٹیز آف دی ایکسپینڈِنگ یونیورس' یعنی 'پھیلتی ہوئی کائنات کی خصوصیات' انھوں نے 1966 میں کیمبرج یونیورسٹی کے فِزکس کے شعبے میں اپنی پی ایچ ڈی کے لیے مکمل کیا تھا۔

کیمبرج یونیورسٹی لائبریری کے مطابق ان کے پاس آنے والی درخواستوں میں اسی تھیسِس تک رسائی کی درخواست ہی سرِ فہرست ہیں۔

اس کی مانگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال میں اس تھیسس کے لیے لائبریری کو 199 درخواستیں ملی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر جس اشاعت کی دخواستیں ہوئیں وہ صرف 13 تھیں۔

سٹیون ہاکنگ کے تھیسس تک رسائی کی بیشتر درخواستیں محققین کی جانب سے نہیں بلکہ عوام کی طرف سے تھیں۔

اس 134 صفحات پر مشتمل تحقیق کی یونیورسٹی لائبریری کی سائٹ پر آن لائن اشاعت پیر 22 اکتوبر کی صبح کی گئی، اور اب اس تک رسائی مفت ہے جبکہ لائبریری میں جا کر اس کو نکلوانے یا سکین کرنے کے لیے 65 پاؤنڈ کی رقم درکار تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Graham Kopekoga
Image caption سٹیون ہاکنگ کو 1963 سے موٹر نیورون ڈزِیز ہے

عوامی ردعمل اور دلچسپی پر پروفیسر ہاکنگ نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لوگوں میں سائنس اور تحقیق کا جذبہ بڑھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت ہی اچھی خبر ہے کہ اتنے لوگوں نے میری تھیسِس کو ڈاؤن لوڈ کرنا چاہا ہے۔ اب بس میری خواہش ہے کہ ان کو مایوسی نہ ہو اسے پڑھ کر۔'

کیمبرج یونیورسٹی کی پروفیسر لورین کیڈوالیڈر نے بتایا کہ انھوں نے جب پروفیسر ہاکنگ کے سامنے اس تھیسس کو عام کرنے کی تجویز رکھی تھی تو وہ فورً اس پر راضی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر ہاکنِگ نے ایک بڑی اچھی مثال قائم کی ہے اور ان کو توقع ہے کہ دوسرے پروفیسر اور محققین بھی اسی طرح سے اپنا کام ویب پر شائع کریں گے تاکہ ہر شخص کو ان کی تحقیق تک رسائی ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں