دولت اسلامیہ کے جنگجو: ’5600 گھروں کو واپس لوٹے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رقہ سے دولت اسلامیہ کی پسپائی کے بعد علاقہ تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے

ایک نئی رپورٹ کے مطابق خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کی شام اور عراق کے علاقوں سے پسپائی کے بعد ان کے کم از کم 5600 حامی اپنے ملکوں کو واپس لوٹے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک سوفان سینٹر کا کہنا ہے گذشتہ دو برسوں میں 33 ریاستوں نے ایسے افراد کی واپسی کو رپورٹ کیا ہے۔

واپس آنے والے ان افراد میں ایک اندازے کے مطابق برطانیہ سے جانے والے 850 افراد میں سے نصف شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘

دولت اسلامیہ سے بچنے والی یزیدی خواتین کی ’رسمِ تطہیر‘

ایف بی آئی کی مترجم کی شدت پسند سے شادی


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واپس آنے والے ان افرد میں زیادہ تر جیل میں ہیں یا منظر عام سے اوجھل ہیں اور یہ آنے والے کئی برسوں تک ایک سکیورٹی چیلنج رہیں گے۔

دولت اسلامیہ کو اس خطے کے بیشر حصے سے اب نکال دیا گیا ہے جہاں پر اس نے سنہ 2014 میں 'خلافت' کا اعلان کر کے دنیا بھر سے کئی افراد کو اپنی طرف مائل کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے امریکہ کے حمایت یافتہ شامی کردوں اور عرب جنگجؤوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے دولت اسلامیہ کو رقہ سے نکال دیا ہے جس کو تنظیم اپنا دارالخلافہ کہتی تھی۔

سوفان سینٹر کے مطابق 2015 کے آخر میں دولت اسلامیہ کو بعض علاقوں میں ہونے والی شکست اور مختلف ممالک کی جانب سے مؤثر اقدامات کی وجہ سے ایک طرح سے غیر ملکی جنگجوؤں کی شام اور عراق آمد رک گئی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کے 110 ممالک سے 40 ہزار سے زیادہ غیر ملکی افراد شام اور عراق جا کر جہادی گروپوں میں شامل ہوئے تھے۔ دولت اسلامیہ کے انتظامی مراکز جیسا کے رقہ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ان میں سے 19 ہزار افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔

تاہم اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر ان افراد کے ساتھ ہوا کیا۔

ملک جانے والوں کی تعداد لوٹنے والوں کی تعداد
روس 3417 400
سعودی عرب 3244 760
تیونس 2926 800
فرانس 1910 271

33 ممالک کی جانب سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر سوفان سینٹر کا کہنا ہے کہ کم از کم 5600 غیر ملکی جنگجو اپنے ملکوں کو واپس لوٹے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ افراد سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے 'اگرچہ اس بارے میں اتفاق نہیں پایا جاتا کہ اپنے آبائی ممالک یا جن ممالک سے یہ افراد گزریں گے یہ ان کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ ناگزیر ہے کہ ان میں سے بعض کا جہاد کی 'پر تشدد' قسم پر یقین رہے گا'۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اُس مقامی 'خلافت' کے سکڑنے یا اسے پنپنے کی جگہ نہ ملنے کی صورت میں یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ 'اس برینڈ کو زندہ' رکھنے کے لیے دولت اسلامیہ کی لیڈرشپ اپنے بیرون ملک حامیوں یا ان واپس لوٹنے والوں پر انحصار کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

عراق میں یزیدیوں کا مستقبل

دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

دولت اسلامیہ کی برطانوی رکن ’ڈرون حملے میں ہلاک‘


تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ کی حمایت یافتہ فورس نے رقہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا مسئلہ لوٹنے والی خواتین اور بچے ہیں اور مختلف ممالک کو ان کو دوبارہ معاشرے میں بحال کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

سوفان سینٹر کے مطابق تیونس کی حکومت نے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد 2015 میں 6000 بتائی تھی جو کہ اب نئے اندازے کے مطابق 2920 کر دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے مطابق اب روس وہ ملک بن گیا ہے جہاں سے سب سے زیادہ غیر ملکی جنگجو گئے تھے۔

برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ نے بی بی سی کو گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ دولست اسلامیہ میں شامل ہونے والے تقریباً 800 برطانوی شہریوں میں سے اندازوں کے برخلاف بہت کم تعداد حال ہی میں واپس لوٹی ہے اور کم از کم 130 افراد مارے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق وہ افراد جو ابھی تک عراق اور شام میں موجود ہیں وہ اب شاید واپس آنے کی کوشش نہ ہی کریں کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں واپسی پر گرفتار کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں