کینیڈی کو کس نے مارا؟ بحث آج بھی جاری

جان کینیڈی تصویر کے کاپی رائٹ PA

جمعرات کو امریکی صدر کینیڈی کے قتل کے بارے میں دستاویزات افشا کی جا رہی ہیں۔ ان میں کیا حیران کن راز چھپے ہو سکتے ہیں؟

بہت سے لوگوں کو یاد ہے کہ کینیڈی کے قتل کی خبر ملتے وقت وہ کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔ ٹونی گلوور ڈیلس سڑک کے کنارے کھڑی کینیڈی کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کی عمر 11 برس تھی۔

وہ کہتی ہیں: 'میرا بچپن مشکلات سے پُر تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر کینیڈی میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دیں تو اس کا مطلب ہے کہ میرا ان سے ذاتی تعلق قائم ہو گیا ہے، اور گھر میں چلنے والے سارے مسائل ہو جائیں گے۔'

ٹونی صبح سویرے ڈیلی پلازا پہنچ گئیں اور صدر کی پریڈ دیکھنے کے لیے اپنی طرف سے سب سے اچھی جگہ پر کھڑی ہو گئیں۔

'وہ آئے، مسکرائے اور ہاتھ ہلایا۔ جیکی (کینیڈی کی اہلیہ) مسکرائیں اور ہاتھ ہلائے۔ وہ میری طرف تھیں۔

'وہ موڑ مڑے۔ میں نے سوچا کہ میں ان کی کار کا اس وقت تک پیچھا کرتی رہوں گی جب تک وہ موڑ مڑ کر نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتی۔ کیوں کہ وہ صدر تھے۔ میں ہر ممکن سیکنڈ تک انھیں دیکھتے رہنا چاہتی تھی۔

'اور پھر ان کا سر پھٹ گیا۔'

انھوں نے اپنی ماں کو بتایا کہ کسی نے کار کے اندر آتش بازی کا گولا پھینک دیا ہے۔

'لیکن میں جانتی تھی کہ اصل بات کچھ اور ہے۔'

ٹونی گلوور تصویر کے کاپی رائٹ TONI GLOVER
Image caption ٹونی گلوور اس مقام پر جہاں کینیڈی کو قتل کیا گیا تھا

اس واقعے کے 54 سال بعد ڈاکٹر ٹونی گلوور پینسلوینیا کی یونیورسٹی آف سکرینٹن میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

'میں حقائق پر یقین رکھتی ہوں۔ میں (کینیڈی کے بارے میں ہونے والی) ایک کانفرنس میں گئی تھی جہاں مختلف سازشی نظریے پیش کیے گئے۔ ان میں کچھ مکمل پاگل پن پر مبنی تھے۔'

اس کے باوجود۔۔۔

'بہت سے تفتیش کار ایسے ہیں جنھوں نے بعض سوالوں کے جواب تقریباً تلاش کر لیے ہیں۔'

اصل میں ہوا کیا؟

جان ایف کینیڈی امریکہ کے 35ویں صدر تھے۔ انھیں 22 نومبر 1963 کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر ڈیلس کے پولیس اہلکار جے ڈی ٹِپٹ کو بھی قتل کر دیا گیا۔ جلد ہی قاتل لی ہاروی اوسوالڈ کو گرفتار کر لیا گیا۔

12 گھنٹے کے اندر ان پر کینیڈی اور ٹپٹ کے قتل کا الزام عائد کر دیا گیا۔

24 نومبر کو ڈیلس پولیس سٹیشن کے اندر ایک نائٹ کلب کے مالک جیک روبی نے اوسوالڈ کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہ منظر ٹیلی ویژن کیمرے پر محفوظ ہو گیا۔

روبی کو اوسوالڈ قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا اور انھیں سزائے موت سنائی گئی۔ انھیں نے اس کے خلاف اپیل کی لیکن وہ 1967 میں کینسر کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔

لی ہاروی اوسوالڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY

سرکاری توجیہ کیا پیش کی گئی؟

کینیڈی کے قتل کے بعد صدر بننے والے لنڈن بی جانسن نے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا، جس نے ستمبر 1964 میں اپنے نتائج پیش کیے، جنھیں وارن کمیشن رپورٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا تھا:

  • گولیاں ٹیکسس سکول بک ڈیپازیٹوری کی چھٹی منزل کی ایک کھڑکی سے چلائی گئیں
  • گولیاں لی ہاروی اوسوالڈ نے چلائیں
  • اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ لی ہاروی اوسوالڈ یا جیک روبی کسی ملکی یا بین الاقوامی سازش کا حصہ تھے

اس کے بعد بھی تحقیقات ہوتی رہیں۔

  • 1968 میں چار ڈاکٹروں کے پینل نے وارن کمیشن کے نتائج کو درست قرار دیا۔
  • 1975 میں راک فیلر فاؤنڈیشن کمیشن نے کہا کہ 'سی آئی اے کے ملوث ہونے کے کوئی قابلِ لحاظ شواہد نہیں ملے'
  • 1979 میں کانگریس کی ایک خصوصی کمیٹی نے بھی وارن کمیشن کو درست قرار دیا، تاہم کہا کہ 'زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ صدر کینیڈی پر دو لوگوں نے گولیاں چلائی تھیں

1992 میں کانگریس نے قانون منظور کیا جس کے تحت اس قتل سے متعلق تمام ریکارڈ، جو 50 لاکھ صفحات پر مشتمل ہے، نیشنل آرکائیوز منتقل کر دیا جائے۔

88 فیصد ریکارڈ عام دستیاب ہے، 11 فیصد عام ہے لیکن اس میں سے 'حساس' حصے نکال دیے گئے ہیں، جب کہ ایک فیصد مکمل طور پر عوام کی دسترس سے باہر ہے۔

1992 کے قانون کے مطابق تمام ریکارڈ 25 برس کے اندر اندر عام کر دیا جائے گا۔

یہ حتمی مہلت جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔

سازشی نظریات کیا کہتے ہیں؟

ٹونی گلوور کہتی ہیں کہ ممکنہ طور پر وہاں ایک اور حملہ آور بھی موجود تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے یہ دوسرا حملہ آور ایک پہاڑی پر تھا اور جب صدر کی گاڑی وہاں سے گزری تو اس نے بھی گولی چلائی۔ ٹونی کہتی ہیں کہ دوسرا حملہ آور سڑک کے دوسری طرف موجود تھا۔ 'اس بات کے خاصے شواہد پائے جاتے ہیں۔'

جیفرسن مورلی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے سابق رپورٹر ہیں جنھوں نے اس قتل پر کئی کتابیں تحریر کر رکھی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب اسی ہفتے چھپی ہے اور یہ سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر انٹیلی جنس چیف جیمز اینگلٹن کے بارے میں ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'میں نے کبھی سازشی نظریات کے بارے میں نہیں لکھا۔ میں صرف قتل کے بارے میں حقائق پیش کرتا ہوں۔'

انھیں شبہ ہے کہ اوسوالڈ نے کینیڈی کو قتل کیا تھا۔ ان کے خیال میں گولی کینیڈی کے سامنے سے آئی تھی جب کہ اوسوالڈ پیچھے تھے۔

مورلی کہتے ہیں کہ 'فوٹیج میں کینیڈی کا سر پیچھے کی طرف گرتا دکھائی دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گولی آگے سے چلائی گئی تھی۔'

مورلی اور وجوہات کی بنا پر بھی سرکاری توجیہ کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اوسوالڈ کے گال کے ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ انھوں نے گولی نہیں چلائی تھی۔

ٹیکسس کے گورنر جان کونلی بھی صدر کی کار میں سفر کر رہے تھے اور انھیں بھی گولی لگی تھی۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ان کو لگنے والی گولی وہ نہیں تھی جو صدر کو لگی تھی۔ یہ بات وارن کمیشن کے خلاف جاتی ہے۔

مورلی کہتے ہیں کہ سرکاری توجیہ کے بعض دوسرے حصے بھی ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

'سرکاری کہانی میں کہا گیا ہے کہ اوسوالڈ نامی ایک شخص نے، جس کے بارے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون تھا، اچانک غیب سے نمودار ہو کر صدر کو قتل کر ڈالا۔ یہ کہانی بالکل غلط ہے۔

'سی آئی اے کا عملہ اور جیمز اینگلٹن چار سال سے اوسوالڈ پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے دسمبر 1959 میں اس کی فائل کھولی تھی۔'

لیکن بوسٹن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹامس ویلن سمجھتے ہیں کہ اوسوالڈ ہی نے کینیڈی کو ہلاک کیا تھا۔

'صرف میں نہیں، عمومی طور پر سبھی تاریخ دان یہی سمجھتے ہیں کہ وہی قاتل تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ کسی بڑی سازش کا حصہ تھا؟'

وارن کمیشن کے مطابق اوسوالڈ اکیلا تھا لیکن اس میں لکھا ہے کہ وہ 1959 میں سوویت یونین گیا تھا اور اس نے وہاں کی شہریت کے لیے درخواست دی تھی جو مسترد ہو گئی۔ وہ 1962 تک وہیں مقیم رہا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اوسوالڈ، جو خود کو مارکسسٹ کہتا تھا، کینیڈی کے قتل سے دو ماہ پہلے ستمبر 1963 میں میکسیکو میں کیوبا اور روس کے سفارت خانوں میں گیا تھا۔

جان کینیڈی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وہ جگہ جہاں سے کینیڈی پر فائر کیا گیا

ویلن کہتے ہیں کہ نئی دستاویزات میں ان کے اس سفر پر روشنی پڑے گی۔

'اوسوالڈ قتل سے پہلے میکسیکو میں کیا کر رہا تھا؟ کیا وہ سوویت اور کیوبن انٹیلی جنس حکام سے ملا تھا؟ کیا انھوں نے اسے حرکت میں آنے کا اشارہ دیا تھا؟

'یقینی طور پر فیدل کاسترو کے پاس صدر کینیڈی کو قتل کرنے کا جواز موجود تھا۔ کیونکہ امریکہ خود کاسترو کو قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔'

دستاویزات میں کیا سامنے آئے گا؟

بروس میروگلیو کیلی فورنیا میں وکیل ہیں۔ انھوں نے کینیڈی اور ان کے قتل کے بارے میں 'ہزاروں' کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میں اس وقت اپنے دفتر میں بیٹھا وارن رپورٹ کی 26 جلدیں دیکھ رہا ہوں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ رپورٹ میں چند خامیاں ضرور ہیں لیکن وہ بڑی حد تک اس کے اخذ کردہ نتائج سے اتفاق کرتے ہیں۔

وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی دوسرا بندوق بردار بھی تھا اور ان کے خیال میں جمعرات کو جاری کی جانے والی دستاویزات میں کوئی بڑا انکشاف نہیں سامنے آنے والا۔

'اگر کوئی چیز چھپائی گئی ہے تو اس میں ملوث لوگوں کی تعداد اتنی بڑی ہے کہ کسی حیرت انگیز انکشاف کو اب تک چھپا کر رکھنا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔'

ٹونی گلوور کہتے ہیں کہ انھیں اشتیاق ہے کہ کیا سامنے آتا ہے۔ تاہم وہ خود کو اس واقعے کا گواہ سمجھتی ہیں نہ کہ تفتیش کار۔

'میں کسی چیز کی تصدیق نہیں کر سکتی۔ میں تو صدر کی جوشیلی پریڈ میں موجود تھی، ہر کوئی خوشی کے مارے اچھل کود رہا تھا، اور بےحد پرجوش تھا۔

'پندرہ سیکنڈ بعد ہم سب پر خوف و ہراس کی چادر چھا گئی۔'

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں