’حجاب لینا نہیں چھوڑا، اسلام قبول کرنے پر نو کمنٹ‘

کیٹلن کولمین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیٹلن کولمین کو ان کے شوہر جوشوا کے ہمراہ سنہ 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا

حقانی گروپ کی پانچ سالہ قید سے بازیابی کے بعد کیٹلن کولمین نے کہا ہے کہ جس دن انھیں ان کے بچوں اور شوہر سمیت بازیاب کرایا گیا اُس دن انھیں پاکستان منتقل نہیں کیا جا رہا تھا بلکہ وہ گذشتہ ایک سال سے پاکستان میں قید تھے۔

کیٹلن کولمین نے کینیڈین اخبار ٹورنٹو سٹار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اِس لیے اپنی خاموشی توڑ رہی ہیں کیونکہ اُن کی قید اور بازیابی کے بارے میں متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'اِس وقت ہر کوئی ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کر رہا ہے اور جھوٹے دعوے کر رہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے ہم کبھی پاکستان میں تھے ہی نہیں اور جب ہمیں بازیاب کرایا گیا اُسی دن ہم پاکستان پہنچے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم شروع سے پاکستان میں تھے اور یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ دونوں باتیں غلط ہیں۔'

پاکستانی سرحد کے اندر 11 اکتوبر کو ایک ڈرامائی فوجی کارروائی میں بازیابی کے 12 دن بعد پیر کو اپنے پہلے انٹرویو میں کولمین نے اپنے خاندان کے اغوا کے بارے میں اہم تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اُن کی کہانی میں بین الاقوامی سطح پر دلچسپی پائی جاتی ہے اور اِسی وجہ سے اس بارے میں ہر طرف سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

کولمین ایک مسیحی فرقے سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن انھوں نے کینیڈا واپس پہنچنے کے بعد حجاب لینا ترک نہیں کیا اور اس انٹرویو میں بھی وہ حجاب کے ساتھ نظر آئیں۔

حجاب لینے کے بارے میں ان سے جب سوال کیا گیا تو انھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس طرح جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اسلام تو قبول نہیں کر لیا تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ 'نو کمنٹ۔'

یہ بھی پڑھیے

کینیڈین جوڑا افغانستان میں کیا کر رہا تھا؟

’مغوی خاندان کو پانچ سال تک پاکستان میں ہی رکھا گیا‘

بالآخر امریکی مغوی کولمین کا ’ڈراؤنا خواب‘ ختم

’طالبان نے میری بیوی کو ریپ کیا‘

کولمین اپنی قید کے ایام کی مکمل تفصیلات پر سرِ عام بات کرنے کو تیار نہیں تھیں لیکن انھوں نے بڑے وثوق سے کہا کہ اس دوران انھیں دونوں ملکوں پاکستان اور افغانستان میں رکھا گیا۔

انھوں نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ انھیں پاکستان میں داخل ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی بازیاب کرایا گیا۔ 'اس دن ہمیں پاکستان منتقل نہیں کیا جا رہا تھا۔ اُس وقت ہمیں پاکستان منتقل ہوئے ایک سال ہو چکا تھا۔'

کولمین کو اپنے کینڈین نژاد شوہر جوشوا بوئل کے ساتھ افغانستان کے صوبے وردک میں اکتوبر سنہ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا۔ جس وقت انھیں اغوا کیا گیا اُس وقت وہ حاملہ تھیں۔

کولمین کے34 سالہ شوہر نے ٹورنٹو پہنچنے کے فوراً بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا کہ قید کے دوران ان کی بیوی کو ریپ بھی کیا گیا اور ان کی ایک بیٹی کو ہلاک کر دیا گیا۔ کولمین نے کہا کہ بچوں کے سامنے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

اپنی بچی کی ہلاکت کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر کی طرف سے حقانی گروپ میں شمولیت سے انکار کے بعد ان کے حمل کو زبردستی گرا دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'وہ بہت غصے میں تھے کیونکہ جوشوا نے ان کے ساتھ شامل ہونے اور ان کے لیے کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے کھانے میں نسوانی ہارمون شامل کر دیے گئے جس کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔

کولمین اور ان کے شوہر نے حمل ضائع ہو جانے کے بعد اس بچی کا نام 'شہید‘ رکھ دیا تھا۔ طالبان نے ایک ہفتے قبل ایک بیان میں کولمین کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا حمل قدرتی طور پر گرا تھا اور ایسا زبردستی نہیں کیا گیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’میں نے سچ دیکھا، پاکستانی فوج نے میرے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنایا‘

کولمین کے مطابق بعد کی دو زچگیوں کے دوران انھوں نے حمل کو چھپائے رکھا اور ان کے شوہر نے ٹارچ کی روشنی میں 'ڈلیوری' کروائی اور وہ خاموشی سے تکلیف سہہ گئیں۔

کولمین نے آوٹوا چلڈرن ہسپتال کے باہر دالان میں جس وقت یہ انٹرویو دیا اس وقت ان کے شوہر ان کے دو بچوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے جن کی عمریں دو سال اور چار سال کی ہیں۔ انٹرویو کے دوران ان کی سب سے چھوٹی بیٹی جو ابھی چند مہینوں کی ہیں ان کی گود میں سکون سے سوتی رہی۔

ان کے تینوں بچے ابھی زیرِعلاج ہیں جبکہ کولمین کا علاج بھی چل رہا ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

دونوں میاں بیوی کی زچگی کی حالت میں افغانستان جانے کے غیر دانش مندانہ فیصلے اور وہاں پر مزید بچے پیدا کرنے پر سوشل میڈیا پر لوگ شدید تنقید کر رہے ہیں۔ کولمین نے کہا کہ وہ ان سب باتوں سے آگاہ ہیں لیکن وہ ہر وجہ بیان نہیں کر سکتیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ ان کے زیادہ بچے اور بڑا سا خاندان ہو۔

کولمین نے کہا کہ ایک ایسی قید جس میں رہائی کو کوئی امید نہ ہو اس نے ہماری زندگی ہم سے چھین لی۔

انھوں نے کہا کہ 'اس وقت یہ ان کا یہ درست فیصلہ تھا کیونکہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہمیں کب تک قید رکھا جائے گا اور ہمیں واپس جا کر یہ موقع ملے گا یا نہیں۔‘

اسی بارے میں