’سوشل میڈیا پر بدنامی نے زندگی تباہ کر دی‘

Image caption 18 سالہ وکٹوریا کی لائیو ڈاٹ می، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اوپن پروفائلز تھیں جہاں ان کے ہزاروں فالوورز تھے

ایک نوجوان لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کا چہرہ فحش تصاویری پیغامات پر چسپاں کرکے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد ان کی زندگی تباہ ہو گئی ہے۔

برطانیہ کے علاقے لیڈز سے تعلق والی وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ انہیں لائیو ڈاٹ سٹریمنگ نامی ایپ پر خودکشی کرنے کو کہاں گیا اور ان کے گھر کا پتا ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔

’آن لائن گیمز کے دوران 57 فیصد نوجوانوں کو دھمکایا جاتا ہے‘

نازیبا زبان اور نفرت انگیزی کے خلاف ٹوئٹر کے نئے ہتھیار

بی بی سی یاکشائر کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق بدنیتی پر مبنی ایسے مواصلاتی پیغامات یومیہ 200 سے زائد ہو چکے ہیں۔

سنہ 2016 میں ایسے 79372 واقعات سامنے آئے جو اس سے پچھلے سال 42910 تھے۔

18 سالہ وکٹوریا کی لائیو ڈاٹ می، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اوپن پروفائلز تھیں جہاں ان کے ہزاروں فالوورز تھے۔

ان کے بقول انہیں فحش تصویر بھیجی گئیں جب پر ان کا چہرہ چسپاں تھا اور ان کے گھر کا پتا درج تھا۔ جبکہ ایک دوسری پوسٹ میں لکھا تھا ’مرجاؤ‘۔

وکٹوریا کا کہنا تھا ’میں انزائٹی کی گولیاں کھاتی ہوں۔ اس نے میرا اعتماد توڑ دیا ہے۔ اب میں گھر سے بھی زیادہ باہر نہیں جاتی۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2016 میں ایسے 79372 واقعات سامنے آئے جو اس سے پچھلے سال 42910 تھے

’یہ سوچ ہر وقت میری ذہن میں رہتی ہیں کہ اگر میں کہیں باہر ہوئی اور وہ لوگ وہاں آگئے۔‘

’اس نے میری زندگی تباہ کر دی ہے۔ میں گھومنے پھرنے والی لڑکی تھی۔ میں پھر سے پہلے جیسی بننے کی کوشش کرتی ہوں۔

ان پیغامات کے بعد وکٹوریا پولیس کے پاس گئیں لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا ’کبھی بھی مجھے لگتا ہے کہ یہ میری غلطی ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگوں کے لیے کسی کو نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے جو میرے لیے محض نئے دوست بنانے کا ذریعہ تھا۔‘

’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا یہ نتیجہ نکلے گا۔‘

سپریٹنڈنٹ میٹ ڈیویژن کا کہنا ہے کہ وکٹوریا کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا ’ہمارے اہلکار متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے مطلع کیا جا رہا ہے۔‘

دی ٹائمز نے حال میں خبر دی تھی کہ ہر روز کم از کم نو افراد کو انٹرنیٹ پر جارحانہ مواد پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا جاتا ہے جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب انٹرنیٹ کی ضرورت سے زیادہ نگرانی پر تنقید کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹوئٹر استحصال سے نمٹنے کے لیے فحش مواد اور نفرت انگیز تصاویر پر پابندی کا منصوبہ بنا رہا ہے

تاہم پولیس چیف کانسٹیبل سٹیفن کیونگ کا کہنا تھا کہ بدنیتی پر مبنی ایسے مواصلاتی پیغامات میں اضافہ ’تباہی کہ دہانے پر پہنچ چکا ہے۔‘

ملک میں ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کے ادارے ڈیجیٹل پولیسنگ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ سماجی رابطے کی سہولیات مہیا کرنے والوں کو اپنے صارفین کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔

ٹوئٹر نے حال ہی میں کہا تھا کہ استحصال سے نمٹنے کے لیے فحش مواد اور نفرت انگیز تصاویر پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

لائیو ڈاٹ می کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا مقصد ہے کہ محفوظ اور دوستانہ ماحول بنایا جائے اس لیے ہر بار ایسی ہراس اور دھمکائے جانے کی وارداتیں دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں