’اگر میں جوان ہوتا تو کبھی نہ پکڑا جاتا‘

جاپانی چور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جاپانی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے آخر کار اس چور کو پکڑ لیا ہے جو ننجا کا بھیس بدل کر چوریاں کرتا تھا تاہم انھیں یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ اس شخص کی عمر 74 برس ہے۔

جولائی میں جب اس شخص کو پہلی بار سکیورٹی کیمرے میں ڈھکے چہرے کے ساتھ دیکھا گیا تو اسی وقت سے ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی تھیں۔

پولیس کے خیال میں یہی شخص ’ننجا آف ہیسی‘ ہیں اور اب تک وہ تقریباً ڈھائی سو چوریاں کر چکے ہیں جن کی کل مالیت کا تخمینہ دو لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے۔

سیاہ لباس میں ملبوس اس چور کی آٹھ سال سے سلسلہ وار چوریوں نے پولیس کو بھی چکرا کر رکھ دیا تھا۔ پولیس یہ سمجھ رہی تھی کہ یہ چوریاں کوئی نوجوان شخص کر رہا ہے۔

تفتیش کاروں نے اس مشتبہ شخص کے بارے میں کہا ہے کہ یہ شخص دن میں دوسرے بزرگ افراد سے تھوڑا الگ تھلگ رہتا تھا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ شخص بعد میں کسی خالی عمارت میں داخل ہو جاتا اور کپڑے بدل کر اندھیرا ہونے کا انتظار کرتا تاکہ واردات کر سکے۔

اوساکا شہر کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ’یہ شخص ننجا کی طرح مکمل طور پر سیاہ لباس میں ملبوس ہوتا تھا۔‘

پولیس نے بتایا ہے کہ ’یہ چور نہایت پھرتیلا تھا اور وہ گلیوں میں چلنے کی بجائے بغیر کسی مشکل کے دیواروں پر بھاگتا پھرتا تھا۔‘

گرفتاری کے بعد اس شخص نے کہا: ’اگر میں جوان ہوتا تو پکڑا نہ جاتا۔ میں اب یہ ترک کر رہا ہوں کیونکہ میں اب 74 برس کا ہو گیا ہوں اور کافی بوڑھا ہو گیا ہوں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں