ڈرائیونگ کے بعد سعودی خواتین کو سٹیڈیم جانے کی اجازت

سعودی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ ریاض کے شاہ فہد سٹیڈیم میں قومی دن کی تقریب میں پہلی بار خواتین کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی

سعودی حکام نے خواتین کو سٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور خواتین اپنے اہلخانہ کے ساتھ آئندہ سال سے سٹیڈیم میں میچ دیکھ سکیں گی۔

ملک کے تین بڑے شہروں ریاض، جدہ اور دمام میں اہل خانہ کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے قوانین میں نرمی آئی ہے اور حال ہی میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

مبصرین کے خیال میں خواتین کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ملنا، اُن کو آزادی دینے کی جانب دوسری اہم پیش رفت ہے۔

سعودی عرب معتدل اسلام کی جانب بڑھ رہا ہے

سعودی عرب میں ’خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت‘

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی ملک کو جدید بنانے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

سعودی عرب میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ تین سٹیڈیم میں تیاریاں کی جائيں گی تاکہ 'وہ سنہ 2018 کی ابتدا سے اہل خانہ کے لیے تیار ہوں۔'

ان تبدیلیوں کے تحت سٹیڈیم میں ریستوران، کیفے اور مانیٹر سکرین لگائی جائيں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تازہ اصلاحات کے باوجود سعودی عرب میں خواتین کے لیے سخت اصول اپنائے جاتے ہیں

سعودی عرب میں ہونے والی یہ اصلاحات شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتصادی تبدیلیوں کے وژن 2030 کے تحت کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے خواتین کو ملک میں پہلی بار گاڑی چلانے کی اجازت دی۔ ملک میں کنسرٹ پھر سے منعقد ہونے لگے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سینیما میں فلم دکھانے کی اجازت بھی مل جائے گی۔

سعودی خواتین کی قومی دن کی تقریب میں شرکت پر تنقید

سعودی عرب میں ’جاز موسیقی کے فیسٹیول کا اعلان‘

بدھ کو شہزادہ محمد نے کہا کہ 'اعتدال پسند اسلام' کی واپسی ملک کو جدید بنانے کے ان کے منصوبے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی 70 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور 'وہ ایسی زندگی چاہتے ہیں جس میں ان کا مذہب رواداری سکھاتا ہے۔'

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں خطرات ہیں۔

گذشتہ ماہ جب ریاض کے شاہ فہد سٹیڈیم میں قومی دن کی تقریب میں پہلی بار خواتین کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی تو قدامت پرستوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس اقدام پر بہت تنقید کی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں